برطانیہ کا عظیم جوا

مروان بشارا

برطانیہ نے یورپی یونین سے باہر آنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب ہر طرف سے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کی جا رہی ہے۔ سب بول رہے ہیں لیکن سننے کو کوئی تیار نہیں۔ کوئی بھی آرام سے بیٹھ کر حالات کا تجزیہ نہیں کرنا چاہتا۔تاہم دلائل سے دور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ برطانیہ والوں نے احتجاجی ووٹ دیا۔ لوگ اشرافیہ کے وعدوں اور پالیسیوں سے تنگ  آ چکے تھے۔ برطانیہ کی ورکنگ کلاس یورپ اور امریکا کی طرح اپنے ملک اور لیڈروں سے دور ہو چکی ہے۔

برطانیہ کے محنت کش، غریب اور مفلس کولگا ک ہبہت ہو چکا ہے۔ ا ن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔  بہتر ہو گا کہ وہ بہتری کے لئے یہ عظیم جوا کھیلیں اور انہوں نے کھیل لیا۔ اب کیا ہو گا یہ دیکھنا ہے۔

برطانوی قوم بے شک جواری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، اس وجہ سے بہتر الفاظ بھی موجود نہیں۔ برطانیہ کے سب سے بڑے بک میکر کے مطابق صرف چیمپئن  لیگ میں برطانوی قوم نے 500 ملین پاؤنڈ کا جوا کھیل لیا۔ یہ سیاحت کے بعد برطانیہ کی دوسری بڑی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق دس میں سے نو برطانوی  زندگی میں کبھی نہ کبھی جوا کھیل چکے ہیں۔  اسی وجہ سے انہوں نے سیاست میں بھی جوا کھیلا۔ برطانیہ میں ووٹنگ سے پہلے ایسے حالات پیدا ہوئے تو بک میکرز بھی میدان میں آ گئے اور یہ ان انتخابات میں دنیا کا سب سے بڑا جوا کھیلا گیا۔  کیا یہ جوے کی رقم ملک کے جوئے سے بڑی ہے تو یہ مستقبل ہی بتا سکتا ہے۔

جب سے یورپی یونین بنی اور برطانیہ شامل ہوا تو کنزرویٹو پارٹی نے شکوک کرنے شروع کر دیئے اور انہوں نے کبھی برطانیہ کو اس تنظیم میں مکمل شامل نہیں ہونے دیا۔ برطانیہ نے کرنسی اور سرحدوں سمیت کئی معاملات کو ماننے سے انکار کیا۔ برطانیہ یورپی یونین میں شامل ہونے کے باوجود اس سےدور ہی تھا۔

تاہم 2008کے مالی بحران نے یورپی یونین کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ تنظیم کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا، تمام ممالک اپنے اپنے آپ کو بچانے میں لگ گئے اور اس کی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی۔ بس پھر کیا تھا، یورپی یونین مخالف افراد نے  کھل کر تنقید شروع کی اور  اس سے نکلنے کی باتیں سامنے آنے لگیں۔پھر جب تبدیلی کی بات آئی تو برطانوی عوام نے تبدیلی کو تسلیم کر لیا۔

جب ووٹنگ کا وقت قریب آیا تو  ’’چھوڑ دو‘‘ والے واضح تھے۔  انہیں اپنے ملک کی عظمت اور اس کے وقار کا خیال تھا جبکہ مخالفین صرف اس ڈر سے یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہتے تھے کہ اگر ایسا نہ ہو اتو کیا ہو گا؟ ہم کیا کریں گے؟ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، بس خوف تھا۔  تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر  ’’چھوڑ دو‘‘ کی تحریک کے لئے کوئی بھی تیار نہیں تھا اور حکومت نے کوئی پالیسی بھی نہیں بنائی تھی۔

برطانیہ کے اس جوے کے بعد اب تک کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس فیصلے سے پیدا ہونے والے مالی بحران سے کیسے نمٹا جائے۔ اب تک تمام رہنما کہہ رہے ہیں کہ یورپی ممالک سے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن برطانیہ سے پیدا ہونے والا مالی بحران یورپ تک پھیل رہا ہے اور شاید اس سے آگے بھی، تاہم کوئی پالیسی موجود نہیں۔

یورپی یونین اس سب پر انتہائی ناراض ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ اب انگلینڈ کے ساتھ صرف اس صورت میں تجارتی معاہدے ہوں گے کہ جب یورپی عوام کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے گی، یعنی برطانیہ جن معاہدوں سے بھاگتا تھا، اب اسے یہ کرنا پڑیں گے۔ برطانیہ انتہائی مکاری سے اب تک یورپی یونین کا حصہ رہا اور نہیں بھی، لیکن اس نے بلاک میں سب سے زیادہ فائدے اٹھائے۔ تاہم اس ووٹنگ نے برطانوی اشرافیہ کے تمام مفادات کو تباہ کر دیا کیونکہ اب سب سے زیادہ نقصان انہیں ہو گا۔

اب برطانیہ کے پاس تین ہی راستے ہیں،

پہلا کہ وہ طلاق سے پہلے مکر جائے اور باہر نکلنے کا فیصلہ واپس لے۔

دوسرا، برطانیہ اس چیلنج کو قبول کرے اور بھرپور انداز میں نئی حکمت عملی تیار کرے۔

تیسرا کہ وہ اس تاریخی لائن پر چل پڑے کہ آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا،  اگر سب ٹھیک نہیں ہوتا تو پھر یہ آخر نہیں

One comment

  1. Pingback: Dunya Today Urdu

x

Check Also

شامی بچے، ترک مہربان

ترکی کی اپوزیشن پارٹی  سی ایچ پی کی رپورٹ ترکی میں آنے والے شامی بچوں ...

شامی پنجرہ

جیمز ڈین سلو   شام کا بحران دن بد دن بد سے بد تر ہو ...

یورپی یونین چھوڑ دی، اب تم برطانیہ چھوڑو

بن ویسکوٹ برطانیہ میں یورپی یونین کے لئے ووٹنگ کےبعد ملک بھر میں نسل پرستی ...

%d bloggers like this: