جلنے والیوں کے نام

محبت کی آگ میں جلنے والیوں کو یہ سماج آگ میں زندہ جلا دیتا ہے ۔
کیا تم نہیں جانتی کہ تم پاؤں کی جوتی ہو ، ناقص العقل ہو ، آدھی ہو ، شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار ہو ۔
تم ہم مردوں کی غیرت کے لیے سر پر ہمیشہ منڈلانے والا خطرہ ہو۔
دل تو یہی چاہتا ہے کہ عربوں اور راجپوتوں کی طرح تمہیں پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جائے کیونکہ جب تک تم زندہ رہو گی ہماری عزت داؤ پر لگی رہے گی۔
تمہارے سر سے دوپٹہ سرک جائے تو ہماری پگ زمین پر آ گرتی ہے۔
تم پورا لباس پہن کر بھی نکلو تو ہوس ناک نظریں تمہیں برہنہ ہی دیکھتی ہیں ( مرد صرف لنگی پہن کر بھرے بازار میں خصیے سہلاتا پھرے تو یہ بھی اس کا استحقاق ہے )۔
تم اپنے بچوں یا گھر والوں کے لیے کسی گھر میں کام کرنے پر مجبور ہو یا کسی دفتر میں ،مرد باہر نکلنے والی عورت کو طوائف ہی سمجھے گا اور اس سے چھیڑ چھاڑ جائز ( غلطی اس کی ہے وہ باہر کیوں نکلی)۔
ہماری تو گالیوں کا سارا ذخیرہ بھی عورت کے دم سے ہے ، ہم بیوی کو احترام کے قابل سمجھتے تو اس کے بھائی کو گالی نہ بنا دیتے ( سالے تجھے کیا پتا)۔
مرد قدرت کی طرف سے عطا کیے گئے اپنے جسم پر تو فخر کرتے ہیں اور اس پر اتراتے ہیں ، اسی قدرت نے عورت کو جو جسم دیا وہ ان کے لیے شرم کا باعث کیوں بن جاتا ہے ؟
جانے ہم سب مرد خود کو آدم کے بیٹے اور عورت کو حوا کی بیٹی کیوں کہتے ہیں ، کیا مرد حوا کی اولاد نہیں ؟ کیا سب مردوں کو کسی عورت نے جنم نہیں دیا ؟

x

Check Also

rauf kalasra

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی کو قانون کا ڈر نہیں رہا۔ معاشرہ ...