فوجی جوانوں پر فائرنگ، منصوبہ بندی جیل  سے کی گئی

کراچی کے علاقے صدر میں فوجی جوانوں پر فائرنگ کی گئی تو تفتیشی حکام  حرکت میں آگئے لیکن امید کی کرن نے اس وقت  دم توڑ دیا جب سی سی ٹی وی کیمرے ناقص اور خراب نکلے اور پھر حملہ آور ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے جس سے ان کی شناخت ممکن نہ ہوسکی۔

حساس اداروں نے اپنی تفتیش کا اغاز کیا اور جیو فینسگ کی گئی اور چار نمبر نکالے گئے،  اس سے قبل بلدیہ ٹاون میں رینجرز اہلکاروں پر حملے میں بھی یہ ہی نمبرز استعمال ہوئے تھے ۔تفتیش کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ حملے کی منصوبہ بندی کراچی کی سینٹرل جیل میں کی گئی اور منصوبہ بنایا کالعدم تنظیم کے کارندوں نے جو صفورا حملے سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے میں ملوث ہیں ۔

حساس اداروں نے جیل میں قید دہشت گردوں سے تفتیش کی ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی جس کے بعد ٹیمیں دیگر کالعدم تنظیموں کے گرفتار دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کریں گی ، تفتیش کے بعد انکشاف ہوا کہ دہشت گردی میں جماعت الحرار ملوث ہے جو تحریک طالبان خالد خراسانی کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔صدر پارکنگ پلازہ پر پاک فوج کی گاڑی پر فائرنگ دہشت گردوں کی فوجی عدالت سے سزا ئےموت ملنے کا ردعمل ہے ،جس کی اطلاع حساس ادارے پہلے ہی دے چکے ہیں

x

Check Also

دھرنوں کا باب بند کرنا ہوگا، چودھری نثار

دھرنوں کا باب بند کرنا ہوگا، چودھری نثار

سابق وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو بنانا ری پبلک بنانے ...