دفتر کا درجہ حرارت کتنا ہو؟

گرمیوں میں کمرہ کا بہترین درجہ حرات کیا ہے۔ اس مسئلے پر صدیوں سے بحث چل رہی ہے۔ لوگ اس سلسلے میں ہزاروں طریقے اپناتےتھے  کوئی گھروں کے باہر پانی کے میٹ رکھتاتھا  تو کوئی پنکھے سے برف باندھ دیتاتھا۔ پھر بھر تسلی نہیں ہوتی۔
2015میں امریکہ کے 129دفاتر میں سروے کیا گیا جہاں 42 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے آفس انتہائی گرم ہیں، جبکہ انہیں دفاتر میں 56 فیصد افراد نے انہیں انتہائی سرد قرار دیا۔ شاید کوئی بھی درجہ حرات ہو انسان اس سے مطمئن نہیں۔
ایک ملازم سروے میں بتایا کہ درجہ حرات کا مسئلہ روز ہمارے آفس میں زیر بحث ہوتا ہے۔ کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔
تاہم ایک پراجیکٹ منیجر لنگ جینگ کو بھی ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ای کی دوست آفس میں اپنے آ پ کو گرم رکھنے کے لئے کشن والی کرسی استعمال کرتی ہیں، جبکہ ایک دوست گرمی سے اتنا تنگ آ جاتا ہے کہ ریسٹ روم میں جا کر سارے کپڑے ہی اتار دیتا ہے۔
ورکرز کے ناخوش ہونے کے انتہائی خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔ جیسے برطانوی دفاتر میں صرف کمرے کے درجہ حرارت کے مسئلہ کر روزانہ دو گھنٹے برباد ہوتے ہیں جس سے ملک کو سالانہ 13 بلین یورو کا نقصان ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں یہ سالانہ نقصان 6.2 بلین ڈالر ہے۔
درجہ حرات بہتر ہونے سے آپ کام کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ فیس بک کے مالک مارک زیوکربرگ کے مطابق درجہ حرارت 15ہونا چاہیے جبکہ صدر اوباما کمرہ گرم رکھنا پسند کرتے ہیں، ان کے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ وہاں اتنی گرمی ہوتی ہے کہ فیصل اگائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ لوگوں کے درجہ حرارت کا مسئلہ حل کرنا ناممکن ہے، ہر ایک کا جسمانی مزاج مختلف ہے۔ اس وجہ سے ایک درجہ حرارت سب کے لئے ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مناسب درجہ حرارت کی تلاش کرنا ضروری ہے، جس کے لئے آپ کا اپنے ملازمین کو بہتر طور پر سمجھنا  ضروری ہے۔
ایک انشورنس آفس میں خواتین کلرکس پر ہونے والے سروے سے معلوم ہوا ہے 25 ڈگری پر انہوں نے بغیر روکے کام کیا، جبکہ غلطی کا تناسب صرف 10فیصد تھا، درجہ حرارت پانچ ڈگری کم ہو ا تو  غلطیوں کا تناسب بڑھ گیا اور کام بھی سست ہو گیا۔
درحقیقت بہترین درجہ حرارت انسان کے سوچنے کا انداز بھی بد ل دیتے ہیں۔ گرمی آپ کی تخلیقی صلاحیت بڑھا دیتی ہے، سردی آپ میں سخت کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، 27 ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت میں حساب کا کام بہتر نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں تک کہ گرم کمرے میں تو لوگوں کے ساتھ دینے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے، گرم کافی ہاتھ میں ہو تو رویہ بہتر، کولڈ کافی ہو تو تو کون میں کون۔

x

Check Also

ملالہ ارب پتی بن گئیں

    برطانوی  میڈیا رپورٹس کے مطابق نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی ارب پتی ...

بچے بڑے بڑوں کے باپ!

ننھے ننھے قدم اٹھاتے بچے اکثر والدین کے لیے کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی کئے ...

دیکھنے میں 30 کی، عمر 50 کی!

  چین کی یی وین نے انٹرنیٹ پر لوگوں کو اپنی تصاویر سے حیران کر ...

%d bloggers like this: