بھنگ سے مرگی کا علاج

برطانوی ڈاکٹرز مرگی کے مریضوں کے علاج کیلئے ایک ایسی دوا استعمال کررہے ہیں جو کہ بھنگ سے تیار کی گئی ہے۔ تجرباتی مراحل میں موجود اس دوا کے استعمال سے مرگی کے مریضوں میں دوروں کی تعداد میں پچاس فیصد تک کمی محسوس کی گئی ہے۔

گریٹ آرمنڈ سٹریٹ ہاسپٹل کے ڈاکٹرز بھنگ کے پودے کو دوا میں استعمال کررہے ہیں۔ استعمال سے پہلے بھنگ کے نشہ آور اجزاء کو پودے سے ختم کیا جارہا ہے۔

اس دوا کا تجربہ ان مریضوں پر کیا جارہا ہے جن میں مرگی کا مرض انتہائی شدید نوعیت کا ہے۔ لینکس گیسٹاٹ سنڈروم نامی مرگی کی اس قسم میں مریض کو ایک دن میں 80 دورے تک پڑ سکتے ہیں۔

دوا کے استعمال سے42 فیصد تک دوروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

دوا کا نام ایپی ڈائیلوکس ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ اگر یہ شدید نوعیت کے مرض میں اس قدر حیران کن نتائج دے رہی ہے تو عین ممکن ہے کہ مرگی کی عمومی شکل میں یہ زیادہ مفید نتائج دے۔

خاص کر وہ مریض جو مسلسل ادویات کے استعمال کے باعث اب ان پر ادویات اثر بھی نہیں کرتی ہیں، دوا کی ایجاد کے بعد اپنے علاج کیلئے خاصے پرامید ہیں۔

مرگی کی شدید قسم کا شکار مریض کی شناخت سکول جانے سے قبل کی عمر میں ہی ہوجاتی ہے۔ تجرباتی طور پر ایپی ڈائیلوکس کھانے والے بچوں میں شامل ایک بچے کی عمر 2 برس ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: