ہم غلط سوال کر رہے ہیں، نوم چومسکی

نوم چومسکی کا انٹرویو

 

ریگن اور تھریچر کے دورا میں معاشی ناانصافی انتہائی تیزی سے بڑھی جنہوں نے اس سارے عمل کو قانونی جہت فراہم کی۔ تاہم اصل وجہ ان دونوں سے دس سال قبل برٹن ووڈز معاہدے کا اختتام تھا۔ ڈالر کو گولڈ سے تبدیل کرنے کا معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے عالمی معیشت تیزی سے مالیاتی اداروں اور سٹے بازوں کے چنگل میں پھنستی چلی گئی۔

لوگ سرمایہ دارانہ نظام پر مذہب کی طرح یقین رکھتے ہیں۔ تاہم اب لوگوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ لاطینی امریکا، امریکا او ریورپ کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ عام لوگ موجودہ حالات سے شدید نالاں ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے سیاسی ہئیت مقتدرہ دنیا بھر میں تباہ ہو رہی ہے۔جمہوریت کو خطرہ ہے کیونکہ اب یورپ کے فیصلے برسلز میں ہوتے ہیں اور لوگ اپنی پارلیمان کو بے بس دیکھتے ہیں۔ایسے میں اپنی بے بسی کا احساس مزید مستحکم ہوتا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بریگزٹ کاحامی تھا۔ بریگزٹ سے یورپ اور برطانیہ کو نقصان ہوا۔ تاہم عام شخص کو یہ سمجھانا مشکل ہے۔ اسکاٹ لینڈ اگر علیحدہ ہو گیا اور یورپ نے بھی انگلینڈ کو تنہا چھوڑ دیا تو برطانیہ کا امریکا پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔ اس سے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں انسان نے جتنے اچھے کام کیے ہیں، ان سب کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

تبدیلی کی ایک فضا موجود ہے لیکن اب یہ انسان کا فیصلہ ہے کہ وہ کون سا راستی اختیار کرے گا۔بے شک سماجی اور معاشی مسائل اہم ہیں لیکن سب سے اہم مسئلہ نسل انسانی کا بقا ہے جسے جوہری جنگ یا موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات لاحق ہیں۔ تاہم یہ دونوں معاملات امریکی انتخابات کا حصہ ہی نہیں تھے۔ ایسے میں سچ ثابت ہوا کہ انسان کو اپنی بقا کی فکر نہیں ہے۔

بل گیٹس ، مارک زیوکربرگ اور وارن بوفے جیسے لوگ اربوں ڈالر کی خیراتی کمپنیاں بنا دیتے ہیں اور پھر دنیا بھر میں واہ واہ کماتے ہیں حالانکہ یہ لوگ صرف اس وجہ سے یہ خیراتی کمپنیاں بناتے ہیں تاکہ ٹیکس سے بچا جاسکے۔ اگر کمپنیاں ان کے نام پر ہوں گی تو سپر ٹیکس لگے گا لیکن یہ خیراتی کمپنی بناتے ہیں تاکہ ٹیکس کم لگے۔  بچے ہوئے ٹیکس سے تھوڑا بہت خیراتی کام ہوتا ہے ، باقی سب کمپنی میں لگ جاتا ہے۔یوں عام آدمی تک ٹیکس کی صورت میں فوائد نہیں پہنچتے۔  کب تک یہ ہمیں پاگل بناتے رہیں گے؟

ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ انقلاب نہیں لاتے۔ یہ کچھ بھی نہیں کرے گا۔ اس نے سب سے  اہم چیز پر بات کرنےسے بھی انکار کر دیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اہم ہی نہیں۔ اب  اس سے نسل انسانی کو خطرہ لاحق ہے۔ ہم اس تبدیلی کی تباہی دیکھ رہے ہیں  اور اگلی صدی تک دنیا کو ختم ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ جاہل کہتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان اس وقت غلط مسائل کی بنیاد پر فیصلے کر رہا ہے۔ ماحول ہی دنیا بھر میں معیشت کو تباہ کر رہا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی عمومی یا جزوی باتوں کو بنیاد بنا کر فیصلے کرے تو میں اسے دانش مند نہیں سمجھتا۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ برٹنڈ رسل سے کسی نے پوچھا کہ آپ ہمیشہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف احتجاج میں کیوں شرکت کرتے ہیں اور پھر پرتشدد ہونے کے بعد گرفتار ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنی توانائی فلسفے اور اہم انسانی جوابات کے حصول پر خرچ کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر آج میں نے یہ احتجاج نہ کیا تو پھر شاید کل کوئی ان باتوں کو پڑھنے والا ہی موجود نہیں ہو گا۔

اگر حالات میرے قابو میں ہوتے تو میں دنیا سے عسکری اختلافات ختم کر کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لئے بنائے گئے قوانین کو ختم کرتا،ماحول کے تحفظ کے لئے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر مکمل پابندی عائد کرتا، حقیقی جمہوریت لاتا۔

حقیقی جمہوریت خواب نہیں بلکہ آسان ہے۔ ہم تمام ریاستی اداروں، بڑی بڑی کمپنیوں، میڈیا اور مقتدر حلقوں کوجمہوریت کے تابع لانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: