سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، 45ویں صدر کا خطاب

امریکا کے 45ویں صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پورے امریکا کے صدر ہیں اور امریکا کے خواب پورے کرنے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
فتح کا اعلان ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کیا، انتخابی مہم کے جارحانہ رویئے کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ متوازن اور مفاہمتی لہجہ اختیار کئے رہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ مل کر اپنے ملک کو ایک بار پھر مضبوط بنائیں گے۔ آج ہر مذہب، رنگ ونسل اور تہذیب سے تعلق رکھنے والے امریکی کے لئے تاریخی لمحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ تحریک تھی کہ کوئی خواب اور کوئی چیلنج بڑا نہیں ہوتا، محنت سے سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے،میں تمام امریکیوں کا صدرہوں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر ایک ساتھ شفاف اندازمیں چلیں گے، امریکی خارجہ پالیسی کا بھی ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ شفاف خارجہ پالیسی بنائیں گے۔
ان تمام امریکیوں کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے میری حمایت نہیں کی، ہیلری کلنٹن نے مجھے فون کیا اور فتح پر مبارکباد دی، میں نے بھی انہیں بھرپورانتخابی مہم چلانے پر سراہا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سب اکھٹے ہو جائیں، ہماری حکومت لوگوں کی خدمت کرے گی، ہم ایک بار پھر امریکا کے خوابوں کو پورا کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں تمام امریکیوں کا صدرہوں، میں مخالفین کو ساتھ آنے کی دعوت دیتا ہوں، ہم مل کر امریکا کوعظیم سے عظیم تر بنائیں گے، ہمارے پاس ایک مضبوط معاشی منصوبہ ہے جس کے ذریعے دنیا میں دوبارہ معاشی طاقت بن کر ابھریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب سے قبل نائب صدر کے امیدوار مائیک پینس نے کہا کہ امریکا نے نیا عالمی چیمپئن منتخب کرلیا، ٹرمپ کے نظریے سے امریکا ایک بار پھر پورے عالم میں جگمگائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: