خواب دیکھنے کی عمر میں چھروں سے چھلنی چہرے

آزاد عیسیٰ ۔ رفعت فرید (الجزیرہ)

سری نگر میں شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال کے امراض چشم وارڈ میں چار لڑکیاں آنکھیں بند کئے ایک قطار میں لگے بستروں پر پڑی ہیں۔

12 سے 19 سال کی ان چاروں لڑکیوں کو آنکھوں میں سیسے کے چھروں والی بندوق سے نشانہ بنایا گیا۔ چاروں لڑکیاں مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بھارتی فوج کے ”غیر مہلک” ہتھیار کا تازہ ترین شکار بنی ہیں۔

اتوار کو پلوامہ کے رمہو گاؤں میں مظاہروں کے دوران 13 سالہ عفرا جان، 18 سالہ شب روزہ اختر اور 18 سالہ شب روزہ بغت کے چہرے پر چھرے لگے۔

شوپیاں کے چترگام کلاں گاؤں کی 19 سالہ عرفی رشید پیر کو اس وقت چھرے لگنے سے زخمی ہوئی جب وہ گھر کی کھڑکی سے جھانک رہی تھی۔

ڈاکٹر طارق قریشی نے الجزیرہ کو بتایا کہ انہوں نے چاروں لڑکیوں کی ابتدائی سرجری کی ہے۔ وہ پُرامید تھے کے چاروں لڑکیوں کی بینائی جلد واپس آجائے گی۔

”ان چاروں لڑکیوں کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ ان کی بینائی موجود ہے۔ ہم لوگ مزید بہتری کا انتظار کررہے ہیں اور اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ دوسری سرجری کرنی ہے یا نہیں۔ تاہم یہ لڑکیاں اندھی نہیں ہیں۔”

kashmir-shabrooza-akhtar

ان لڑکیوں کے خاندان ابھی تک صدمے کی حالت میں ہیں۔

شب روزہ اختر کے بستر کے پاس بیٹھی اس کی والدہ رفیقہ نے بتایا کہ ”چھرے اس کے سر میں بھی گھس گئے ہیں۔ آپ کو اس قابل ہونا پڑتا ہے کہ ہر طرح کا کام کرسکیں۔ میری بچی بہت ہونہار تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا اس کے ساتھ ہو کیا گیا۔”

عرفی رشید کی ماں مریم بیگم کے لیے تشویش کا باعث ان کی بیٹی کی بینائی ہے۔ ”میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ یہ دوبارہ دیکھنے کے قابل ہوجائے۔ اگر اس کے جسم کے کسی دوسرے حصے میں چھرے لگے ہوتے تو شاید یہ سب اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا۔”

مریم بیگم نے بتایا، ”میری بیٹی پتھر نہیں برسا رہی تھی اور نہ ہی مظاہرہ کررہی تھی۔ وہ ایک لڑکی ہے اور اس کے سامنے ایک لمبی زندگی پڑی ہے۔ میرا خاوند ایک سیدھا سادہ کسان ہے۔ یہ صورتحال ہم سب کے لیے ہر طرح سے بڑی پریشان کردینے والی ہے۔”

پولیس حکام نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق اتوار کو پلوامہ کے گاؤں میں سرچ آپریشن کے لیے انہوں نے ناکہ بندی کی تھی۔ ایک جتھے کے حملہ کرنے پر انہیں منتشر کرنے لیے پیلٹ فائر کئے گئے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد فوجیوں نے ہر طرف تباہی مچائی۔ وہ گھروں میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ کی۔

جولائی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج جھڑپوں میں 100 سے زائد کشمیریوں کو شہید کرچکی ہے۔ 12 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہیں۔

کشمیری عوام بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بے دردی سے چھروں والی بندوق کا استعمال کیا جارہا ہے۔

اخبار گریٹر کشمیر میں 30 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 1631 افراد کے چہروں کو چھروں والی بندوق سے نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سے 1100 افراد کی آنکھیں زخمی ہوئی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظمیوں نے مظاہرین پر چھروں والی بندوق کے استعمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اگست میں بھارتی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ چھروں والی بندوق کے استعمال پر نظر ثانی کرے گی۔ جموں و کشمیر کی حکومت کے ترجمان نے بھی بتایا تھا کہ اس ہتھیار کا استعمال ترک کردیا جائے گا تاہم اب بھی چھروں سے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

kashmir-shabrooza-bhagat

اسپتال میں زیر علاج لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مظاہروں میں شریک نہیں تھا۔

13 سالہ عفرا جان کی خالہ روبینہ نے اس واقعے کو ”بربریت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بچی اتنی چھوٹی ہے کہ اسے ابھی جو کچھ ہورہا ہے اس کی سمجھ بھی نہیں۔

”ایسا لگتا ہے بھارتی فوج لڑکوں کو نشانہ بنانے کا کام پورا کرچکی ہے۔ اب ان کا ٹارگٹ کم عمر لڑکیاں ہیں۔ یہ سب ایسا ہے جیسے ہم طوفان میں گھرے ہوئے ہیں۔”

شب روزہ اختر نے شکوہ کیا، ”جب لڑکے زخمی ہوتے ہیں تو بہانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ پتھراؤ کررہے تھے۔ لیکن ہم نے کیا کیا تھا؟ ہمارا کیا قصور تھا؟”

بھارت کشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کرچکا ہے۔ بھارتی فوج اور پولیس 1990 سے اب تک ہزاروں کشمیریوں کو قتل کرچکی ہیں۔

الجزیرہ پر پڑھیں

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: