کیا بیوی کو مارنا چھوڑو گے؟

بیتھن میک کیرن

 

امریکا میں سعودی سفیر سے جب یمن میں کلسٹر بموں کے استعمال پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک ایسا جواب دیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ ان سے یہ سوال یمن میں پھیلنے والی تابکاری اور اس کے اثرات پر سوال پوچھا گیا تھا۔ سعودی سفیر نے کہا کہ ’’یہ ایسا سوال ہے کہ  جیسے کوئی پوچھے کہ کیا تم اپنی بیوی کو مارنا چھوڑو گے؟‘‘

واشنگٹن میں عرب امریکا پالیسی میکرز کانفرنس کے دوران ’’دی انٹرسیپٹ ‘‘ کے صحافی  نے سعودی شہزادے عبداللہ آل سعود سے پوچھا کہ ’’کیاآپ یمن میں کلسٹر بموں کا استعمال کرتے رہیں گے؟‘‘

اس پر جناب سعود نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایسا سوال ہے کہ  جیسے کوئی پوچھے کہ کیا تم اپنی بیوی کو مارنا چھوڑو گے؟‘‘ تاہم جب سوال دوبارہ کیا گیا اور صحافی نے زور دیا تو  انہوں نے کہا کہ ’’آپ سیاسی نمائندگی کر رہے ہیں، یہ صحافیانہ سوال نہیں۔ میں یہاں سیاست کے لئے موجود نہیں ہوں۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ ’’جو مرضی ہو جائے، سعودی سلطنت کسی بھی صورت حوثی باغیوں پر بمباری بند نہیں کرے گی۔ اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔اگر  کوئی انسانی جان پر حملہ آور ہو گا، ہماری سرحد  پر چھیڑ خانی کرے گا، وہ پھر کسی بھی خطے میں ہو، ہم اس کو نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

جناب سعود اس کے بعد انتہائی غصے میں آ گئے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ جو بھی یمن کے مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہے، وہ سمجھ لیں کہ مسئلہ کون پیدا کر رہا ہے؟

سعودی حکومت نےمارچ 2015میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی درخواست پر حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی مداخلت  کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب یمن میں کلسٹر بموں کا استعمال کر رہا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کلسٹر بم آگ پھیلاتے ہیں جس کی وجہ سے زمین پر موجود تمام  اشیا راکھ ہو جائیں گی۔ ادھر تنظیموں کا خیال ہے کہ سعودی فوج زیادہ تربیت یافتہ نہیں اور اس بمکے درست استعمال کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔

اب تک جنگ میں 10ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد صنعا میں سعودی بمباری کی وجہ سے  مارے گئے۔ اس کے جواب اقوام متحدہ میں سعودی مندوب عبداللہ المعلم کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کے سرحد پا رحملوں میں پانچ سو سعودی شہری بھی مارے گئے ۔

سعودی عرب نے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیقات کا اعلان کیا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات اگر غیرجانبدار اداروں سے نہیں ہوتی تو بے سود ہے۔ ان تنظیموں نے اقوام عالم سے بھی سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو اسلحے کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب امریکا پالیسی میکرز کانفرنس میں جناب سعود اہم ترین شخص تھے کیونکہ انہوں نے اس کانفرنس میں شیورون، لاک ہیڈ مارٹن، ایگزون، ریتھون اور بوئنگ جیسی کمپنیوں کو آرڈر  دینے تھے، اس وجہ سے صحافیوں کو سوالات کے بعد باہر نکال دیا گیا۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: