نسل پرستی کے خلاف یورپ میں تاریخی احتجاج

فن لینڈ کے رالحکومت ’’ہیل سنکی ‘‘ میں وزیراعظم اور سابق صدر سمیت ہزاروں افراد  نے نسل پرستی اور نازیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں 20ہزار افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے  ریلی میں ’’بہت ہو گیا‘‘ کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ رواں ماہ ایک 28سالہ شخص کو دارالحکومت میں نئے نازی گروہوں کے خلاف احتجاج کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک بھر میں نسل پرست گروہوں کے خلاف نفرت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

اس کا اظہار  تاریخی مظاہرے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس شخص پر فنش ریزسٹنس موومنٹ کے لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ ایک ہفتہ اسپتال میں رہنے کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جہان فانی سے کوچ کر گیا۔

اطلاعات کے مطاق نیو نازی گروپ کے لوگوں نے اس کے سر کر بار بار زمین پر پٹخا تھا اور وہ اس پر تھوکتے رہے۔ اس حملے کے الزام میں گروپ کا ایک 26سالہ اہم رکن گرفتار کرلیا گیا۔

ملک میں نسل پرست گروہوں پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اتوار کے تاریخی احتجاج میں بھی لوگ مسلسل اس حوالےسے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

’’ہیل سنکی ‘‘ میں بھی مہاجرین اور ایمگریشن قوانین کے حوالے سے حکومت کو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا رہا تھا کیونکہ مقامی آبادی غیر ملکیوں، خصوصی طور مسلمانوں کی ملک میں آمد کے خلاف ہے۔

تاہم موجودہ فساد کے باعث نازیوں کی طاقت میں شدید کمی آئی ہے اور لوگ ان سے کھل کر نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: