سعودیہ کی وہابیت سنی فقہ کے لئے خطرہ،علما

رابرٹ فسک (دی اینڈی پینڈنٹ)

سعودی عرب کے خلاف مسلم دنیا میں نفرت انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ یمن کی غیر منطقی جنگ قرار دی جائے یا کچھ اور لیکن یہ عمل اب انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ شیعہ علما تو سعودی عرب پر تنقید کرتے ہی تھے لیکن اب سنی بھی سعودی عرب سے نفرت کا اظہار کر رہےہیں۔

دنیا کے 100قابل ذکر سنی علما نے پہلی بار سعودی عرب کے خلاف فتویٰ دیا ہے جس کے مطابق سعودیہ کی وہابیت سنی فقہ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اور خطرہ بن  گئی ہے۔ان علما میں مصری مفتی اعظم اور جامعہ الاظہر کے امام احمد الطیب بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کے باہر یہ مسلمانوں کے عالمی لحاظ سے سب سے اہم مرکز ہے اور پچھلے سال بھی انہوں نے سعودی عرب میں اسکولوں کی تعلیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

چیچنیا کے دارالحکومت میں ہونے والے اس اجلاس کو دنیا بھر کے میڈیا نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ تاہم یہ اجلاس شاید شام کی جنگ سے بھی زیادہ حیرت انگیز تھا۔ ولاد میر پیوٹن کے آشیر باد سے ہونے والا یہ اجلاس بے شک سعودی عرب کے خلاف سب سے بڑا مذہبی معرکہ ہے۔

اس اجلاس کے اعلامیہ میں سعودی عرب کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن یہ سلطنت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ وہ ہر سال وہابیت کے پرچار کر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ چیچنیا اجلاسکے اعلامیہ میں کہا گیا کہ وہابیت دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ نظریہ مسلمانوں سمیت ہر اس غیر مسلم کو قتل کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو ان کی بات نہیں مانتا۔ اس حوالے سے داعش، طالبان، القاعدہ سمیت متعدد مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

سعودیہ نے اس ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ تاہم ان کا اس اعلامیہ پر رد عمل حیران کن تھا۔ریاض کی مرکزی مسجد شاہ خالد کے امام عادل الکبانی نے کہا کہ ’’دنیا ہمیں راکھ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

بری خبر یہاں ختم نہیں ہوتی حج ختم ہوتے ہی ایک لبنانی اخبار الخبر نے سعودی وزارت خارجہ کے خفیہ دستاویزات چھاپ دیئے جن کے مطابق 14 سا ل کے دوران حج میں 90 ہزار لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تاہم سعودی عرب نے ان اعدادوشمار کو جھوٹ قرار دیا اور نام لئے بغیر اسے ایران کے روحانی لیڈر کی سازش قرار دیا۔

ادھر خامنائی پہلے ہی سعودی عرب کو قاتل قرار دے چکے ہیں جو کنٹینروں میں زخمیوں کو ڈال  کر دفنا دیتا ہے۔ تاہم سعودی عرب کا کہنا ہے کہ خامنائی ایک بار پھر گری ہوئی حرکت کر رہے ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ سلطنت کے خلاف اخلاق سے گرا ہوا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

ایران نے تو اس سال سیکیورٹی نہ ملنے پر حج  کا بائیکاٹ کیا لیکن اب پہلی بار ہے کہ سنی اور شیعہ مل کر سعودی عرب کے خلاف یک زبان ہیں جس سے سلطنت انتہائی دباؤ میں ہے۔ مصری امام کی موجودگی سعودی عرب کے لئے انہتائی تشویشناک ہے کیونکہ انہوں نے السیسی کے آنے کے بعد  مصری معیشت میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

یقیناً آج سعودی عرب سوچ رہا ہو گا کہ آخر اس سے کہاں غلطی ہوئی ہے جو پوری دنیا اس کے خلاف ہے۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: