ری پبلکن پارٹی بچاؤ۔ کلنٹن کو ووٹ دو

جیمز گلاس مین (نیویارک ٹائمز)

میں روز اپنے بہت سے دوستوں سے ملتا ہوں جو اب تک یہ حوصلہ پیدا نہیں کرسکے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ہلیری کو کیسے ووٹ دیں؟ وہ تو سچ نہیں بولتی، ٹیکس بڑھانا چاہتی ہے، ایشیا کے ساتھ آزاد تجارت ختم کرنا چاہتی ہے۔ لبریٹرین نمائندہ گیری جانسن تو خود منشیات فروشی کاروبار کرتا رہا ہے اور علیحدگی کا حامی ہے۔ ایسے میں بہتر یہی ہے کہ ہم خاموش رہیں اور لوگوں کو انتخاب کرنے دیں۔ پھر جو بہتر ہوگا جیت جائے گا۔

مجھے خود بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔ 1980 سے اب تک میں نے ہر ری پبلکن نمائندے کو ووٹ دیا ہے۔ مگر اس بار میں ایسا نہیں کروں گا۔ مسٹر ٹرمپ کی شخصیت صدر بننے کے قابل نہیں ہے۔ ان کے خیالات ہماری آئینی آزادی  کے خلاف ہیں۔ وہ شخصی آزادی کے خلاف ہیں۔ وہ ابراہم لنکن سے چلنے والی روایات کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔

ٹرمپ کی آمد سے قبل ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ شخص ہمارا نمائندہ بن جائے گا۔ میں نے اس دور میں ایک آزاد امیدوار کی حمایت کا سوچا۔ میں نے بہت کوشش کی تاکہ کوئی آزاد امیدوار سامنے آئے اور ان دونوں امیدواروں کی چھٹی کرا دے۔ ہمارے گروہ نے ہر ممکن کوشش کی لیکن بالآخر ہم ہار گئے اور کوشش ترک کر دی۔

ری پبلکن اور ڈیموکریٹ کے مقابلے میں کسی اور کا سامنے آنا امریکی ریاست میں تقریباً ناممکن ہے۔  ایک آزاد امیدوار کے لئے تمام ریاستوں سے صدارتی نامزدگی کی خاطر مطلوبہ دستخط حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ کبھی بھی فنڈز حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ کبھی بھی نامزدگی کے دوران ہونے والی ڈیبیٹ کا حصہ نہیں بن سکتا جس کی وجہ سے میڈیا سے دور رہے گا۔

اس تجربے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ اب ہمیں اچھا لگے یا برا لیکن مسٹر ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن ہی ہمارے امیدوار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ ٹرمپ کو ہرانا چاہتے ہیں تو پھر ہلیری کلنٹن کو ووٹ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آپ اس سب سے باہر ہو ہی نہیں سکتے۔

یہ سادہ سا حساب ہے۔ اگر آپ اوہائیو میں رہتے ہیں تو فرض کریں کہ وہاں 3.1 ملین ٹرمپ کے ووٹر اور 3 ملین ہلیری کے ووٹر ہیں۔ اب اس ریاست میں 2 لاکھ ایسے ووٹر ہیں جو ٹرمپ کو ووٹ نہیں دینا چاہتے اور ہلیری کو ناپسند کرتے ہیں۔ اب اگر یہ لوگ ووٹ نہیں دیتے یا پھر کسی تیسرے کو ووٹ دے دیتے ہیں تو پھر ٹرمپ جیت جائے گا۔ اگر ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیں گے تو پھر ٹرمپ ہار جائے گا۔ ہلیری کلنٹن کو ملنے والا ہر ووٹ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ٹرمپ کے ایک ووٹر کو ہم نے آئین کا دفاع کرتے ہوئے روک دیا۔

Hillary Trump

اس وجہ سے میں اپنے ساتھی ری پبلکنز کی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ ہمیں ٹرمپ اور ہلیری میں سے کسی کو ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ ہم سب سے دوستوں نے جارج ڈبلیو بش کے عہد میں ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ ہلیری کو ووٹ نہ دینے کی وجہ ٹیکس بڑھنے کا خوف ہے۔ تاہم یہ یقیناً ٹرمپ کی فتح سے بڑا خطرہ نہیں۔

پچھلے ماہ بھی کئی ری پبلکن عہدیداروں نے ٹرمپ کو امریکی تاریخ کا ’’ناہنجار‘‘ ترین صدرارتی امیدوار قرار دیا تھا ۔ ان سمیت لاکھوں ری پبلکن ہیں جو ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ مجھے اس نظریے سے اختلاف ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ایسے شخص کے ہاتھ میں جوہری ہتھیار نہیں دینے چاہئیں، پھر وہ نہ صرف دنیا بلکہ امریکی سیکیورٹی کے لئے بھی خطرہ ہے۔ ان حالات میں اس شخص کو ہرانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔

میں کلنٹن کو ووٹ دوں گا کیونکہ اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ اس سے بہتر صدر ثابت ہوں گی۔ ٹرمپ کو ہرا کر میں ری پبلکن پارٹی کو بچاؤں گا۔ اگر یہ جیت گیا تو عالمگیریت اور آزادیوں پر مبنی یہ جماعت ایک علیحدگی پسند جماعت بن جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ سال میں یہ جماعت ختم ہو جائے گی۔

اس سال ری پبلکن پارٹی کے سینیٹ امیدوار بھی بہت مشکل میں ہوں گے۔ میں نے خود ان کی مہم کے لئے بہت کوشش کی ہے لیکن ٹرمپ کی جیت کسی صورت قبول نہیں۔ بہتر ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں کلنٹن کو ووٹ دیں اور چار سال میں پارٹی کو فعال بنائیں۔ پھر اس پارٹی کا بہتر صدارتی امیدوار لائیں اور اگلے انتخابات میں کلنٹن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

دکھ کی بات ہے کہ ٹرمپ کی وجہ سے ہماری تمام سیاسی مہم تباہ ہو گئی۔  ہماری پارٹی کو پاگلوں کی جماعت سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے میں حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنی شکست قبول کریں اور مستقبل کو بہتر بنائیں۔ سب کے سامنے ری پبلکن پارٹی کا کوئی شخص ڈیموکریٹ کی حمایت کرے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دوست اور نوکری سمیت سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہے۔ تاہم اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ملکی سیکیورٹی کے لئے خطرہ ہے تو پھر ووٹ دیں اور سچ بولیں۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: