مہلک ترین مسٹرڈ بموں  کا خاتمہ ، فیکٹری تیار

ایسوسی ایٹڈ پریس

امریکی ریاست کولوراڈو میں  فوج کا 4.5 بلین ڈالر کا پلانٹ تیار ہو گیا ہے۔ اس پلانٹ میں روبوٹ دنیا کے خطرناک ترین ٹینک شیلز کو تلف کریں گے۔ مسٹرڈ بموں پر عالمی پابندی کے بعد امریکہ نے اپنے اسٹاک میں موجود 7 لاکھ 80 ہزار بم تلف کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ انتہائی حساس کام ہے اور روبوٹس پانی میں ان بموں کے کیمیائی اجزا کو تلف کریں گے۔ اس کیمیائی ہتھیار کو آرٹلری میں سب سے خطرناک قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس بم کی مدد سے اگر ایک زخم بھی آ جائے تو موت یقینی ہوتی ہے۔

مسٹرڈ بیکٹریا ہوا اور کھال پر گرنے سے ہی مہلک ترین اثرات مرتب کرتا ہے اور دشمن  خون کی الٹیاں کرتے ہوئے جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ پلانٹ کے منیجر جارج موہرام کے مطابق ہر چیز تیار ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ حساس کام میں کوئی بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔

یہ پلانٹ اگر چوبیس گھنٹے کام کرے تو روانہ 500 شیلز تلف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی فوج کو امید ہے کہ یہ کام 2020 تک ممکن ہو سکے گا۔ جارج کے مطابق انسانیت کو اس خطرناک ہتھیار سے محفوظ بنانا کبھی خواب تھا لیکن اب یہ حقیقت بن رہا ہے۔

ابتدائی طور پر پلانٹ میں  سست روی سے کام شروع ہو گا لیکن اگلے سال تک یہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام شروع کر دے گا۔ اس پلانٹ میں تجرباتی طور پر 560 شیل اور مسٹرڈ بیکٹریا کے کئی ڈبے تلف کیے جا چکے ہیں کیونکہ ان میں لیکیج شروع ہو گئی تھی۔ ان کنٹرینرز کو تباہ کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے مطابق پلانٹ کے حوالے سے تمام تحفظات دور کیے جا چکے ہیں اور اب عوام کو اس پلانٹ پر کوئی خدشات نہیں۔

اس پلانٹ کے ڈپو میں 26 سو ٹن بیکٹریا موجود ہے جس کو آئندہ دو سال میں یہ پلانٹ تلف کرے گا اور دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنائے گا۔

امریکی فوج کے پاس اس کے علاوہ بھی 523  ٹن مسٹرڈ بیکٹریا بلیو گراس  نامی آرمی ڈپو میں موجود ہے۔ اس کو تلف کرنے کا کام 2023 میں ختم ہو گا۔ مسٹرڈ ایجنٹ کوئی گیس نہیں بلکہ ایک کثیف مایا کی قسم ہوتی ہے۔ اس کا نہ تو کوئی  رنگ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی خوشبو۔ ابتدائی طور پر اسے بنایا گیا تو اس میں مسٹرڈ  کی بو آتی تھی۔

امریکی حکومت کے مطابق ان کے پاس 30 ہزار 600 ٹن کا  مسٹرڈ مواد موجود تھا لیکن انہوں نے کبھی اسے جنگ میں استعمال نہیں کیا۔ اب تک اس کا 90 فیصد اسٹاک تباہ ہو چکا ہے کیونکہ اس کو ابتدائی مرحلے میں ہی تلف کر دیا گیا تھا۔

پہلی جنگ عظیم میں گیسوں والے بموں کے استعمال کے بعد معاہدہ ہوا جس کے مطابق  ایسے اسلحے کے استعمال پر پابندی لگی۔ 1997 کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے نے اس اسلحے پر مکمل پابندی لگا دی۔

تاہم اقوام متحدہ  کے مطابق داعش اور شام کی فوج نے ان ہتھیاروں کا جنگ میں کھلے عام استعمال کیا جس سے ہزاروں لوگ مارے گئے، یا بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے سوچ و بچار شروع کیا کہ اس حوالے سے شام پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ تاہم شام کے مسائل کو دیکھتے ہوئے اب تک اس سلسلے میں زیادہ اقدامات نہیں کیے جا سکے۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: