زیادہ تجارت ،تھوڑے نظریات

ہوجوچانگ

یہ مضمون ’’ہوجو‘‘کے طویل مضمون کا ساتواں حصہ ہے، چھٹا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 

اگرچہ یقین تو نہیں آتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا سے زیادہ امیر ہوتا تھا۔ یہ متحدہ کوریا کا وہ علاقہ تھا جسے جاپان نے اپنے دور حکمرانی  میں صنعتی طور پر کافی ترقی یافتہ بنا دیا تھا۔ جاپان کے نو آبادیاتی حکمرانوں کے لئے شمالی کوریا ایک ایسا آئیڈیل علاقہ تھا جہاں سے چین پر قبضہ کرنے کے لئے جاپانی اپنے سامراجی منصوبوں کا آغاز کر سکتے تھے۔ یہ علاقہ چین سے نزدیک ہے اور یہاں معدنی وسائل خصوصاً کوئلے کے بھی کافی ذخائر پائے جاتے ہیں۔ جاپانیوں کی رخصت کے بعد بھی ان کی تعمیر کردہ صنعتی بنیادوں کے باعث 1960ء کی دہائی تک شمالی کوریا کی جنوبی کوریا پر اقتصادی برتری برقرار رہی۔
آج جنوبی کوریا کا شمار دنیا کی طاقتور صنعتی اقوام میں ہوتا ہے جبکہ شمالی کوریا غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔ اس کے پس منظر میں یہ حقیقت کار فرما ہے کہ جنوبی کوریا نے بیرونی دنیا سے تجارتی روابط بڑھانے اور نئی بیرونی ٹیکنالوجی اپنانے کے لئے بہت زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کیا جبکہ شمالی کوریا اپنے خود انحصاری کے نظریے پر کار بند رہا۔ تجارتی روابط کے ذریعے جنوبی کوریا نے زیادہ بہتر ٹیکنالوجی کا علم حاصل کیا اور نئی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے درکار زر مبادلہ بھی کمالیا۔

تاہم شمالی کوریا نے بھی اپنے انداز سے ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کیا۔ مثال کے طور پر اس نے ونالون (جو کہ ایک قسم کا مصنوعی ریشہ ہے)  کی وسیع پیمانے پر تیاری میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ چونے کے پتھر سے یہ ریشہ بنانے کا فن ایک کورین سائنسدان نے 1939ء میں دریافت کیا تھا۔حالانکہ یہ نائلون کے بعد انسانی ہاتھوں سے بنایا جانے والا دوسرا مصنوعی ریشہ ہے مگر اس کے باوجود ’و نالون‘ کو ایسی مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی کیونکہ اس سے آرام دہ کپڑا تیار نہیں ہو پایا۔

پھر بھی اس کی بدولت شمالی کوریا کپڑے کے معاملے میں خود کفیل ہو گیا۔ تاہم ایک ترقی پزیر ملک ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی مسلسل درآمد کے بغیر اپنے طور پر آخر کتنی ایجادات کر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ شمالی کوریا ٹیکنالوجی کے میدان میں ابھی تک آگے نہیں نکل سکا اور 1940ء کی دہائی کی جاپانی اور 1950ء کی دہائی کی روسی ٹیکنالوجی پر اکتفا کیے بیٹھا ہے جبکہ جنوبی کوریا اس وقت ٹیکنالوجی کے معاملے میں دنیا کی انتہائی متحرک ترین معیشت ہے ۔

کیا اس حقیقت کا’’تجارت اقتصادی ترقی کے لئے بہت مفید ہے‘‘،اس سے بڑا کوئی دوسرا ثبوت بھی ہو سکتا ہے؟

اقتصادی ترقی کا حتمی مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول اور اس میں مہارت حاصل کرناہوتا ہے۔ اگر نظریے کے حساب سے دیکھا جائے تو ایک ملک اپنے طور پر ایسی ٹیکنالوجی تیار کر سکتا ہے مگر ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کرنے کے لئے ایسی حکمت عملی بالآخر جلدہی اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے، جیسے شمالی کوریا کے ساتھ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی ترقی کی اب تک جتنی بھی کامیاب مثالیں سامنے آئی ہیں،ان میں بیرونی ٹیکنالوجی کے حصول اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی خصوصی کوششیں کی گئی ہیں۔

تاہم ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی در آمد کے لئے ضروری ہے کہ ترقی پزیر ممالک کے پاس زر مبادلہ ہو۔ لہذا تجارت کے بغیر ملک ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے اور یوں اقتصادی طور پر بھی اتنی ترقی نہیں کر پاتا۔

تا ہم یوں کہنے میں کہ’اقتصادی ترقی کے لئے تجارت ضروری ہے‘ اور یوں کہنے میں کہ ’آزاد تجارت اقتصادی ترقی کے لئےلازمی ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہی الفاظ کی وہ شعبدہ بازی ہے جس کے ذریعے آزاد تجارت کے علمبردار اپنے مخالفین کو نہایت چالاکی سے یہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ آزاد تجارت کی مخالفت کا مطلب ، ترقی کے عمل کی مخالفت ہے۔

جیسا کہ جنوبی کوریا کی مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی تجارت میں سرگرمی سے شرکت کے لئے آزاد تجارت کی راہ پرچلنا ضروری نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر جنوبی کوریا آزاد تجارت کا راستہ اپنا لیتا اور اپنی نوخیز صنعتوں کو تحفظ نہ دیتا تو آج یہ اتنا بڑا تجارتی ملک نہ ہوتا۔

یہ اب تک خام مال ہی برآمد کر رہا ہوتا ،(مچھلی، سمندری جڑی بوٹیاں وغیرہ ) یا پھر نچلے درج کی ٹیکنالوجی ،سستی مصنوعات وغیرہ جو کہ 1960ء کی دہائی میں اس کی اہم برآمدات ہوتی تھیں ۔ اگر آزاد تجارت کی پالیسی پر 1960ء کی دہائی میں ہی عمل درآمد شروع کر دیا جاتا تو آج کوریا میں بھی یہی جھگڑا چل رہا ہوتا کہ کونسا بالوں کا گچھا کس کی ملکیت ہے۔

کوریا کی ترقی کا راز تحفظ کی پالیسی اور آزاد تجارت کے ملے جلے اصولوں میں پوشیدہ ہے یعنی ایک ہی راستہ اپنانے کی بجائے کثیرالطرفہ پالیسی اپنائی گئی، یعنی ضرورت پڑی تو نو خیز صنعتوں کو تحفظ دیا گیا اور جب وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئیں، یعنی عالمی مسابقت کے قابل ہوگئیں تو پھر انہیں آزاد تجارت کی راہ پر گامزن کر دیا گیا۔

یوں دیکھا جائے تو یہ اتنا بڑا راز نہیں۔ موجودہ تمام ترقی یافتہ ممالک یونہی ترقی کی منزل تک پہنچے ہیں اور تیسری دنیا کے تمام کامیاب ممالک یہی اصول اپنا کر کامیاب ہوئے ہیں۔ مدافعتی پالیسیاں ترقی کی ضامن نہیں مگر ان کے بغیر ترقی کرنا بہت مشکل ہے۔
اگر امیر ممالک حقیقتاً چاہتے ہیں کہ تجارت کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی مدد کی جائے تو پھر انہیں ایسی غیر متناسب مدافعتی پالیسیوں کی حمایت کرنا پڑے گی جن پر ترقی یافتہ ممالک 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں خود بھی عمل کرتے رہے ہیں۔

انہیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہیں اب اپنی معیشتوں پر پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں مگر ترقی پذیر ممالک کو اس عمل کی ضرورت ہے۔ عالمی تجارتی نظام کے تحت ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی کے لئے کی جانے والی کوششوں کو مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی نوخیز صنعتوں کو تجارتی محصولات ، سبسڈیز اور بیرونی سرمایہ کاری کے قوانین کے آزادانہ استعمال کے ذریعے تحفظ دے سکیں۔

اس وقت موجودہ عالمی تجارتی نظام امیر ممالک کو مختلف شعبوں میں ضرورت کے مطابق مدافعتی قوانین اور سبسڈیز استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر اب یہ معاملہ الٹ ہونا چاہئے، یعنی ترقی پذیر ممالک کے لئے ضرورت کے مطابق اپنے شعبوں میں مدافعتی قوانین نافذ کرنے اور سبسڈیز دینے کی راہ ہموار کرنا چاہیے۔

یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ امیر ممالک میں زرعی شعبے سے پابندیوں کے خاتمے کو ہمیں صیح تناظر میں رکھ کر دیکھنا چاہیے ۔ ان ممالک کی طرف سے زرعی شعبے سے پابندیوں کا خاتمہ کچھ ممالک مثلاً برازیل اور ارجنٹائن کے لئے مفید ہوسکتا ہے مگر زیادہ تر ممالک کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ امیر ممالک کو اپنے زرعی شعبے سے پابندی اٹھانے کے عمل کو ترقی پزیر ممالک میں مدافعتی پالیسیوں کو محدود تر کرنے کے عمل سے مشروط نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ اس وقت امیر ممالک مطالبہ کر رہے ہیں۔

معاشی ترقی میں عالمی تجارت کے کردار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم آزاد تجارت سب سے بہترین حکمت عملی نہیں۔ یہ صرف اس صورت میں کار آمد ہو سکتی ہے کہ اس کے ساتھ مدافعتی پالیسیاں بھی اپنائی جائیں یعنی حالات کی مناسبت سے کبھی تحفظ اور کبھی آزادانہ تجارت کی پالیسی۔

معاشی ترقی کے لئے تجارت اتنی اہم ہے کہ اسے آزاد پالیسی کے علمبرداروں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: