کشمیر اور فلسطین، مقبوضہ علاقوں کی داستان

گولڈی اوسوری  الجزیرہ (بھارت کی سماجی کارکن)

بھارت اور اسرائیل کی محبت اب بالغ ہو چکی ہے۔ ان دونوں کی محبت اور مقبوضہ علاقوں میں نفرت  بھی ایک جیسی ہے۔

بھارت 1960 سے اسرائیلی ہتھیار خرید رہا ہے۔  تاہم دونوں میں تعلقات  کی بحالی کو اگلے سال 25 برس پورے ہوں گے اور اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

یہ دونوں ممالک اپنے مقبوضہ علاقوں  میں قبضے قائم رکھنے کے لئے جبر کی ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔ بھارت اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ پچھلے دس برس میں بھارت نے 10 ارب ڈالر کے اسرائیلی ہتھیار خریدے۔ بھارتی پولیس بھی اسرائیلی انسداد دہشت گردی فورس سے تربیت حاصل کرتی ہے تاکہ وہ بھی فلسطینیوں کے طرح کشمیریوں کو دبا سکیں۔

2004 میں ہرش پنت نے کشمیر اور فلسطین پر ایک مضمون  لکھا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ نو گیارہ کے بعد اسلامی شدت پسندی کے باعث دونوں ممالک میں آزادی کی تحریک کو شدید نقصان پہنچے گا۔

دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے درمیان اسلحے کی تجارت کے فروغ کا باعث بنے گا۔ یوں  صیہونی اور ہندوتوا کی شدت پسندی کو  پس پشت ڈال دیا جائے گا۔

کشمیر اور فلسطین کی آزادی کا مسئلہ اب سکڑ  کر صرف ہمسایہ ممالک تک ہی رہ گیا ہے  جس کی وجہ سے وہاں خلفشار بھی بڑھ رہا ہے۔

حزب اللہ کے جنگجو برہان وانی کی  ہلاکت کے بعد کشمیر میں موجودہ انتشار کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ ہزاروں کشمیری اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ کشمیری عوام اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ برہان وانی کے لئے  ہونے والے تاریخی احتجاج پر ریاست کا ردعمل بھی تاریخی تھا۔ بھارت نے بربریت کی بدترین مثال قائم کی۔ کئی ممالک میں پابندی کا شکار پیلٹ گن کا بھارت نے بے دریغ استعمال کیا اور سینکڑوں کشمیری جیتے جی مر گئے۔

اب تک محتاط اعداد و شمار کے مطابق 70 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 6 ہزار زخمی ہیں، ان میں ایک سالہ بچے سے بزرگ تک سب شامل ہیں۔ ان مظالم کے باوجود کشمیری بھارت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔

موجود حالات کو تاریخ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1990میں اس لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس کے بعد خطے میں 5 لاکھ  فوجی تعینات کیے گئے یعنی ہر 25 افراد کی نگرانی کے لئے ایک فوجی۔ جموں کشمیر سول سوسائٹی رپورٹ کے مطابق اب تک  مسلح جدوجہد میں 70 ہزار کشمیری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 10 ہزار کو جبری لاپتا کیا گیا۔ 7 ہزار اجتماعی قبروں میں سے ملے۔

تشدد، جنسی زیادتی، لاپتا کرنا کشمیر میں ایک عام سی بات ہے۔ انسانی حقوق کی یہ پامالی صرف اور صرف کشمیریوں کی آزادی کو سلب کرنے کے لئے ہے۔ ہمیں اس وقت مغربی اور غیر مغربی نوآبادیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

1947 اور 1948 میں بھارت اور پھر اسرائیل بنا لیکن یہ دونوں سال کشمیر اور فلسطین کے لئے خونی سال ہیں۔ فلسطین کی زمین چھین کر لوگوں کو ملک بدر کیا گیا۔ ادھر کشمیر کو ایک غیر مقبول راجہ نے عوامی رائے کے خلاف بھارت کے حوالے کر دیا۔

اس حوالگی میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ بھارت عوامی رائے کو جاننے کے لئے ریفرنڈم کرائے گا لیکن ریاست نے کبھی یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ یوں بھارت اور اسرائیل نے غیر مغربی نوآبادیات کی بنیاد رکھی ہے۔

قبضہ کسی صورت میں قانونی ہوتا ہے؟ اگر دنیا کی سب سے بڑی منڈی یہ حرکت کرے تو کیا جائزہے؟ قصائی کن حالات میں قصائی نہیں کہلاتا؟ اگر وہ وزیراعظم ہو یا پھر ان کا حلیف؟

گجرات میں نسل کشی کی وجہ سے نریندر مودی کو تو 2005 میں امریکا نے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔  پہلے انہیں ’’گجرات کا قصائی‘‘ کہا جاتا تھا لیکن اب ان کو ایک نیا ٹائٹل بھی مل سکتا ہے کیونکہ وہ اب ’’کشمیر کے قصائی‘‘ بھی ہیں۔

نیتن یاہو بھی ’’فلسطین  کے قصائی‘‘ ہیں کیونکہ انہوں نے بھی غزہ میں 2014 کے دوران کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اقوام متحدہ نے اسرائیلی اقدام کے خلاف جنگی جرائم کے تحت تحقیقات کیں اور پھر یہ نتیجہ نکلا کہ اسرائیل کے بھی 66 فوجی اور 7 شہری مرے جس سے دونوں طرف جنگی جرائم ہوئے۔ بس معاملہ ٹھپ ہو گیا۔

صرف امریکا نے اس تحقیقات کی مخالفت کی جبکہ یورپی یونین اور بھارت نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ غزہ میں بمباری کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اسرائیل ہر روز وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں کہ جہاں ہر روز قومی ریاستیں جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ تاہم خون کے پیاسے عوام کھل کر ان اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ عالمی لیڈر روز جمہوریت کے گن گاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس خون کی ہولی کے سامنے خاموش ہیں، وہ لوگوں  کا استحصال کرنے والی جمہوریت کے آگے بے بس ہیں۔

اگر دنیا بھر میں اس کے خلاف آواز بلند نہ کی گئی تو شاید اس پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ مجھے اس بات کی انتہائی خوشی ہے کہ اب کچھ لوگ کم از کم بھارت میں کشمیری مظالم کے خلاف بول رہے ہیں۔ یونہی فلسطین کے لئے بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ اگر ان  نقطوں کو ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی حمایت بڑھ رہی ہے اور آزادی کے لئے ان کی خواہش اب بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: