جب میری تصویر دنیا بھر میں مقبول ہوئی

خالد البیح

اینڈی ویرول نے کہا تھا کہ ’’ایک وقت آئے گا کہ جب دنیا کا ہرشخص 15منٹ کے لئے دنیا کا معروف ترین شخص ہو گا۔‘‘

جب میں نے شامی بچے کی گرد  سے اٹی اور زخموں سے چور تصویر دیکھی تو  میں بس ایک ہی کام کر سکا ، جو مجھے آتا ہے کہ کارٹون بناؤ۔ وہ بچہ الیپو میں بمباری کے دوران عمارت گرنے سے زخمی ہوا تھا۔

اس کارٹون کو دنیا بھر میں بے تحاشا پسند اور ری ٹویٹ کیا گیا۔ نامور شخصیات، سیاستدانوں اور عام عوام نے اسے پسند کیا۔ اس تصویر کا نیویارک ٹائمز سے لے کر جاپانی میڈیا ایجنسیوں تک سب نے استعمال کیا۔ ایسا لگا کہ یہ کارٹون دنیا کی آواز بن گیا ہے۔ کسی نے مجھ سے پوچھا تو کسی نے یہ زحمت گوارا نہیں کی لیکن مجھے ایک بھی ادارے نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔

khalid albaih cartoon

اس پوسٹ کو شیئر کرنے کے 5 گھنٹے بعد مجھے سی این این سمیت دنیا کے نامور نیوز چینلز نے اپنے ٹی وی پر بٹھایا اور اس بارے میں بات کی۔ دنیا بھر نے میری بات سنی لیکن میرے اپنے ملک سوڈان نے اس کو پوچھا بھی نہیں۔

میں ایک سوشل میڈیا آرٹسٹ ہوں۔ میں نے کئی بار اپنی تصاویر کو دنیا بھر میں وائرل ہوتے دیکھا ہے۔ اس سب کا آغاز عرب اسپرنگ کے دوران ہوا جب  میرے کام کو انٹرنیٹ پر پسند کیا گیا اور پھر میری تصاویر عرب دنیا میں تبدیلی کا نشان بنیں۔  جب بھی میرا کام وائرل ہوا ہے میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ اب کیا؟ آگے میں کیا کروں گا؟

وائرل ہونے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگ آپ کو بتاتے ہیں کہ  اس سے بہتر اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر آپ بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ میں نے کیا مختلف کیا؟ کیا بہتر ہو سکتا تھا؟ کیا مستقبل میں ایسا کچھ کر پاؤں گا؟

اینڈی ویرول  کا خیال تھا کہ دنیا میں ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب ہر 15 منٹ کے لئے انسان مقبول ہو گا، مگر آج سنیپ چیٹ کے دور میں اب ہر ایک کے پاس صرف 10 سیکنڈ ہیں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی یاداشت انتہائی کمزور ہے، خاص طور پر جب خبروں کی بات آتی ہے۔ جلد ہی  داعش یا کوئی اور حادثہ انٹرنیٹ پر مقبول ہو گا اور اس پر میری فکر مشہور ہو گی۔ کیا یہ آرٹ ہے؟

اب میں اس سب کے بارے میں پریشان نہیں ہوتا کیونکہ جیسے ہی کوئی ایونٹ ہو گا ، میں اپنی فکر پیش کر دوں گا، پھر لوگوں کا فیصلہ۔ شاید یہ اتنی بھی بری چیز نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں اب لوگ عام چیزوں کو پسند نہیں کرتے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب مجھے اس کام میں محنت نہیں ، دانش کی ضرورت ہے اور بس، میں اپنے دس سیکنڈ حاصل کرتا رہوں گا۔

اس آرٹیکل کا مقصد دنیا کو انٹرنیٹ آرٹ سے متعارف کرانا تھا۔ کچھ لوگوں نے اپنے دس سیکنڈ اور 15 منٹ کو لمبا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ اس وجہ سے میں نے بروقت فیصلہ کیا تاکہ میڈیا اور دنیا اومران کو بھول نہ جائے۔ بروقت فیصلے نے مجھے میرے 10 سیکنڈ دیئے۔

شام جنگ کی کوریج ایک تصویر سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ یہ ایک تصویر سے زیادہ دل شکن احساس ہے۔ یہ احساس ختم نہیں ہوا بلکہ یہ ہر سیکنڈ بدترین ہو رہا ہے۔ اس سب میں ہمیں یہ خیال رکھنا ہے کہ انٹرنیٹ یہ طے نہ کرے کہ شام میں کیا اہم ہے اور کیا نہیں۔

انگریزی میں پڑھیں

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: