انٹرنیٹ کی خطرناک حقیقت

کارل راٹی، ڈیرک ہیل بنگ (الجزیرہ)

’’فساد کی قیمت‘‘ یہ ایک سیاسی اصطلاح ہے جو اب ٹیکنالوجی میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ جب ایک  بہت بڑے نظام میں بہت سے لوگ اپنے اپنے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے بڑے سسٹم کی ’’افادیت‘‘ کم ہو جاتی ہے۔  ان حالات سے  ہم اپنی روزمرہ  کی زندگی میں نبردآزما ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ ایک سٹی پلینر ہیں اور ایک شہر کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا کام سرانجام دےرہے ہیں تو اس کام کو سرانجام دینے کے دو طریقے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ آپ  رش والی جگہ کا تعین کریں اور پھر وہاں تبدیلیاں کریں۔ یا پھر لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دیں تاکہ انہیں رش والے مقامات کا اندازہ ہو جائے اور وہ وہاں آنے سے گریز کریں۔

پہلے طریقے میں ’’فساد کی قیمت‘‘ کم ہے کیونکہ آپ یا علم پر مبنی فیصلہ کر رہے ہیں۔

آج دنیا میں ڈیٹا کا سیلاب ہے۔ 2015میں انسان نے اتنا ڈیٹا بنایا جو آج سے پہلے نسل انسانی نے اپنی پوری تاریخ میں مرتب نہیں کیا تھا۔ جب بھی ہم ایک کام کرتے ہیں، کوئی خریدوفرخت کرتے ہیں یا کوئی پیغام بھیجتے ہیں تو ہم اپنا ڈیجیٹل مارک چھوڑ جاتے ہیں۔ اطالوی مصنف  ’’اطالو کالوینو‘‘ نے جو لکھا تھا، اب سچ ہونے جا رہا ہے کہ ہر انسان دنیا میں اپنا ڈیجیٹل ریکارڈ چھوڑ کر جائے گا۔یعنی وہ ریکارڈ کہیں نہ کہیں ہمیشہ موجود رہے گا۔

جیسے جیسے انٹرنیٹ تیزی سے پھیل رہا ہے ’’فساد کی قیمت‘‘ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر تیزی سے  ڈیٹا کی جگہ پھیل رہی ہے اور اس کے ساتھ یہ خواہش بھی بڑھ رہی ہے کہ تجزیہ کی وسیع طاقت کے ساتھ  اس دنیا کو زیر کیا جا سکے۔

مثال کے طور پر، شاید آپ ایمازون سے کتاب خریدنے کا تجربہ کر چکے ہوں۔ ایمازون کے پاس اپنے استعمال کرنے والوں کی پروفائل سمیت اتنی زیادہ معلومات موجود ہے کہ آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ اس وسیع تجزیہ کی مدد سے ایمازون کو سیکنڈ سے بھی کم حصے میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اب آپ کیا خریدنا چاہیں گے۔ وہ آپ کے سرچ پیٹرن کی مدد سے ایسی اشیا آپ کے سامنے لے آتی ہے کہ فرد خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

یہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا حصہ ہے۔ جیسے ہی آپ اس سے دس کتابیں خرید لیتے ہیں، ایمازون کی تجزیہ کی صلاحیت 90فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ کو بیشتر اوقات کچھ سرچ نہیں کرنا پڑتا اور بس سائٹ میں جاتے ہی آپ کا پسندیدہ مال سامنے آ جاتاہے۔

جب ہم ’’فساد کی قیمت‘‘ کم کرتے ہیں تو ایک نیا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ ایمازون دس کتابیں خریدنے کے بعد آپ کو صرف اپنی پسندیدہ کتابیں فراہم نہیں کرتی بلکہ ایسی کتابیں بھی سامنے لاتی ہے جو ایک چیلنج ہوں۔ یعنی وہ آپ کے دنیاوی تصور کے خلاف ہوں۔ وہ آپ کو چیلنج کرتا ہے۔

ٹریفک والی مثال کے برعکس یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں لوگوں کو خود چلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہاں سب کچھ تجزیے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ بڑا ڈیٹا آپ کے لئے باآسانی غیر دلچسپ چیزیں نکال کر  آپ کے لئے سہولت پیدا کر دیتا ہے۔ تاہم 11ویں کتاب ہمیشہ ایک سرپرائز اور چیلنج ہی ہو گی۔

کتابوں کے لئے جو مثال درست ہے، درحقیقت ہماری زندگی، سماج اور ٹیکنالوجی کے لئے بھی درست ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کی مدد سے ہی آج دنیا کے تمام بڑے شہروں میں ترقی، تعمیرات، صفائی، جرائم سمیت تمام معاملات پر  نظر رکھی جا رہی ہے۔

دنیا بھر میں میئر اب کنٹرول روم میں بیٹھ کر شہر چلا رہے ہیں، جیسے ریو میں میئر آئی بی ایم سافٹ ویئر کی مدد سے آن لائن تمام کام کر رہا ہے۔تاہم اس سب کی وجہ سے ہم انتہائی تیزی سے تخلیقی اور جمہوری اقدار کا قتل کر رہے ہیں۔

اس سب کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔ عدم مرکزیت پر مبنی  فیصلے کا نظام سماجی بہبود کے لئے لازمی ہے۔ ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر ہونے والے فیصلے ابدی نوعیت کے ہوتے ہیں، جو اپنی موجودہ شکل میں تبدیلی اور تنقید کو رد کر کے انسانی فلاح کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔

ایک خاص حد تک آوارہ گردی انسانی ترقی کے لئے ہر دور میں لازمی رہی ہے۔ مجموعی طور پر بات کی جائے تو یہ انسانیت کے لئے بھی لازمی ہے۔ اگر فطرت نے ابدی نوعیت کے فیصلے کیے ہوتے تو ڈی این اے تبدیلی کا عمل روک جاتا۔ ایسے میں آج بھی زمین اپنی  ابتدائی زندگی سے مختلف نہ ہوتی۔

عدم مرکزیت پر مبنی فیصلہ سازی انسان اور مشین کے درمیان بہتر تعلقات پیدا کر سکتی ہے ۔ یوں نسل انسانی  اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس ایک ساتھ مل کر چل سکیں گی۔

عدم مرکزیت سے شاید مسائل کے حل میں سست روی آئے لیکن مجموعی طور پر اس سے فائدہ ہی ہو گا۔ اگر فساد کی قیمت انسانی ترقی ہے تو شاید ہمیں یہ قیمت ادا کرنی چاہیے۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: