دہشتگردی کیخلاف پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کا فوجی اتحاد

دہشت گردی کے خلاف پاکستان، چین، افغانستان اورتاجکستان نے مشاورتی میکنزم تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا۔

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے مطابق چار ملکی میکنزم کی تشکیل کے دوران چاروں ممالک کی علاقائی خود مختاری اور سلامتی کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

چار ملکی ”کوآپریشن اینڈ کوآرڈینیشن میکنزم“ کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے مشترکہ دشمن کو مل کر شکست دینا ہے۔

یہ میکنزم اقوام متحدہ کے منشور کے تحت کام کرے گا اور یہ کسی دوسرے ملک یا ادارے کے خلاف نہیں ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ چین کے دوران ارمچی میں پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کی فوجی قیادت کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں افغان آرمی کے سربراہ شاہ شہیم، چینی افواج کے سربراہ جنرل فینگ، تاجکستان کے ڈپٹی ڈیفنس منسٹر میجر جنرل کبدیر زادہ شریک ہوئے۔

چاروں ممالک کی افواج کے اہلکاروں کی مشترکہ تربیت کا اہتمام کیا جائے گا، تمام فیصلے اور اقدامات باہمی اتفاق اور اعتماد کے ذریعے کیے جائیں گے۔

کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پیپلز لبریشن آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف فینگ سے بھی ملاقات کی جس میں پاک چین فوجی تعلقات، علاقائی تعاون اور اقتصادی راہداری کی طویل المدتی سیکیورٹی کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔

آرمی چیف نے سنکیانگ میں سیاسی قیادت سے بھی ملاقات کی۔

آرمی چیف نے ارومچی میں پارٹی سیکرٹری ژینگ چن شیان سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان چین دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سکیورٹی کے امور خاص طور پر اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل اور سکیورٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغانستان کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل شاہیم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے، افغانستان خطے میں انسداد دہشت گردی میں تعاون کے حوالے سے چین کی جانب سے تجویز کردہ چار ملکی میکنزم کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ تمام فریقین اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

جنرل فانگ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات میں اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دیا جائے گا، دہشت گردی انسانیت کی مشترکہ دشمن ہیں اس کے خاتمہ کے لئے تمام فریقین کو مشترکہ کا وشیں کرنے کی ضرورت ہے۔

چینی افواج چار ملکی فریم ورک کے تحت افغانستان کے ساتھ سٹریٹجک رابطہ کاری، تعلقات کو مستحکم کرنے، انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط کرنے اور خطے میں امن اور علاقائی سالمیت کو مستحکم کرنے کے لئے کام کرنے کو تیار ہے۔

x

Check Also

امریکا، ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

ڈرون سے گردے کی اسپتال میں ڈیلیوری

امریکی شہربالٹی مورمیں ڈرون کی مدد سے ڈونر کا گردہ مریض تک پہنچا دیا گیا، ...

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

کتاب میں کسی کھلاڑی کی کردار کشی نہیں کی، آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ...

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ماریا شراپوا اٹالین ٹینس سے دستبردار

ٹینس پلیئر ماریا شراپووا کے فینز کیلئے بری خبر ، وہ اب تک کاندھے کی ...

%d bloggers like this: