میننگ کا شاید آخری سفر اور قید تنہائی

الیجا نوول جین

بریڈلے میننگ کو کون نہیں جانتا۔ ایک عظیم سپاہی، جس نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا۔ بس غلطی یہ ہوئی کہ پکڑا گیا، ورنہ شاید باقیوں کی طرح اس پر بھی فلمیں بن رہی ہوتیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اس وقت کس اذیت سے گزر رہا ہے۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کس حالت میں تھا کہ جب اسے گرفتار کیا گیا۔

کیا آپ اس کی کہانی سننا چاہتے ہیں تو یہ درد ناک ترین کہانی ہے۔ تاہم اس کا درد سمجھنے کے لئے آپ کو انتہائی حساس دل کی ضرورت ہے۔ یہ کہانی اسنوڈن اور جولین جیسے کسی خوابوں کے شہزادے کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک عجیب مخلوق کی ہے۔

maning 2

ہاں میں نے بریڈلے کو مخلوق لکھا۔ غور کریں کہ کیوں لکھا۔ بریڈلے کو جب امریکی حکام نے گرفتار کیا تو وہ خواجہ سرا بننے کے لئے آپریشن کرا چکا تھا۔ تاہم  علاج ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ اسے بدترین حالات میں گرفتار کیا گیا۔ اب وہ خواجہ سرا ہے یا نہیں وہ شاید خود بھی اس کا جواب نہ دے سکے۔

پھر اسے گرفتار کیا گیا اور جیل میں طبی سہولیات بھی نہیں دیں گئیں حالانکہ اسے طبی سہولیات کی سخت ضرورت ہے۔ شاید وہ جس اذیت سے گزر رہا ہے کوئی اور ہوتا تو مر جاتا۔ شاید اتنی اذیت تاریخ میں کم لوگوں کو دی گئی ہو۔

تاہم وہ اپنے آپ کو چیلسی میننگ کہتا ہے  تو ہم بھی اسے چیلی میننگ اور خواجہ سرا ہی تسلیم کرتے ہیں۔

اب اس کے مسائل میں مزید اٖضافے کا امکان ہے۔ وکی لیکس کے ذریعے امریکی راز اگلنے والے چیلسی میننگ کو قید تنہائی میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ میننگ کے وکیل کے مطابق اس نے گزشتہ ماہ جیل میں خودکشی کی کوشش کی جس کے بعد اب نیا مقدمہ شروع ہو گیا ہے اور انہیں شاید مستقل طور پر قید تنہائی میں منتقل کر دیا جائے۔

manning 3

امریکی سول لبرٹی آرگنائزیشن کے مطابق میننگ خواجہ سرا ہے اور اسے اپنی خود کشی کی کوشش پر کوئی دکھ نہیں بلکہ اس نے شکوہ کیا ہے کہ فوج اسے بہتر طبی سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔

وکیل کے مطابق میننگ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہے۔ اب اس کے خلاف نیا مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی ریاست اسے بدترین مثال بنانے پر لگی ہوئی ہے۔حکومت جانتی ہے کہ وہ آپریشن کے بعد خواجہ سرا بنا ہے اور اسے مسلسل طبی سہولیات کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی اس کی مدد نہیں کی جا رہی۔

امریکی سول لبرٹی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ خود کشی کی وجہ اسے طبی سہولیات نہ ملنا تھی، اگر حکومت نے اسے فوری طور پر سہولیات فراہم نہ کیں تو شاید وہ ویسے ہی مر جائے گا۔

میننگ کو امریکی جنگ کے 35000 دستاویزات وکی لیکس کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اسے 35سال کی سزا سنائی گئی لیکن یہ سزا ایسے وقت میں دی گئی کہ جب اس کا جنسی تبدیلی کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔ وہ شاید اب اس سب کے درمیان کھڑا ہے۔

اس سب کے دورا ن ایک عجیب واقعہ بھی ہوا کہ جب میننگ نے اپنی ماہانہ کال کے موقع پر پچھلی بار مداحوں سے بات کی تو اس نے خودکشی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اس نے خودکشی کی تھی اور پھر ایک دن کے علاج کے بعد وہ ٹھیک ہو گیا۔

بظاہر یوں لگتا ہے کہ میننگ سخت بیمار ہے لیکن امریکی ریاست اسے نشان عبرت بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ شاید اب اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ امریکی حکام قید میں میننگ کو توڑنے میں ناکام رہے۔ اس نے سلطانی گواہ بننے سے انکار کیا۔ اب شاید اسے قید تنائی میں پھینک کر نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

x

Check Also

rauf kalasra

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی کو قانون کا ڈر نہیں رہا۔ معاشرہ ...