افغانستان پر طالبان کا قبضہ، سیگار کی رپورٹ

سیگار

امریکی حکومت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی ابتدا سے اب تک افغان حکومت کو طالبان کے خلاف سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ اب تک افغان فورسز ملک کا 5فیصد حصہ طالبان کے ہاتھوں گنوا بیٹھی ہیں۔

اسپیل انسپکٹر جنرل آن افغانستان ڈولیمپنٹ (سیگار) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت کا پچھلے برس مئی تک ملک کے 70.5فیصد حصے پر قبضہ تھا لیکن رواں سال یہ کم ہو کر 65.5فیصد رہ گیا ہے۔

ضلع کے حساب سے بات کی جائے تو افغان حکومت 400 میں سے 19 کا کنٹرول طالبان کے ہاتھوں گنوا بیٹھی ہے۔

امریکی کمانڈر جان نیکلسن کا کہنا ہے کہ طالبان نے اب صرف دیہی علاقوں پر قبضہ کرنے کے قابل ہو سکے ہیں۔

پینٹاگون کو ویڈیو لنک سے بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ ’’ان کا خیال تھا کہ وہ پہاڑی علاقوں کو آسانی سے حاصل کر کے قبضہ جما لیں گے، تاہم وہ اب تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘‘

ادھر افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی لڑائی جاری ہے، اس وجہ سے کوئی بھی اعدادوشمار حتمی تصور نہیں کیے جا سکتے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ’’صرف طالبان نہیں بلکہ بہت سے دوسرے مسلح گروہ بھی زمین پر قبضے کے لئے حکومت سے برسرپیکار ہیں۔ہم انہیں تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حتمی طور پر کس علاقے پر کس کا کنٹرول ہے۔‘‘

’’ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ طالبان موجود ہیں لیکن وہ صرف چند دیہی علاقوں میں ہیں۔ ان کا کسی اہم شہر پر قبضہ نہیں ہے۔‘‘

امریکہ کئی برسوں سے افغان فوج کی معاونت کر رہا ہے تاکہ ان کو بہتر طور پر مسلح کیا جا سکے اور ان کی لڑائی کی تربیت مکمل ہو لیکن اب تک کم از کم افغان فوج بہتر طور پر مسلح نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنٹرول کم ہونے کی ایک اہم ترین وجہ یہ ہے کہ افغان فورسز کو ایسے علاقوں سے نکالا گیا ہے کہ جہاں خطرات کم ہے بلکہ انہیں اب فرنٹ لائن پر لڑنے کے لئے بھیجا جا رہا ہے تاکہ دشمن کا بہتر طور پر سامنا کیا جا سکے اور مکمل طور پر تباہ کرنے کی حکمت عملی بنائی جا سکے۔

افغانستان میں سیکیورٹی کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور طالبان کے قبضے میں اضافہ ہو رہا ہے، اسی وجہ سے صدر اوباما نے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا سے انکار کیا اور وہاں 8400امریکی فوجی اب بھی تعینات ہیں تاکہ افغانستان کو مستحکم رکھا جا سکے۔

اوباما نے امریکی فوجیوں کو افغان فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کی اجازت بھی دی اور امریکی فضائی وقت کا زیادہ استعمال کرنے کے لئے بھی درخواست قبول کر لی۔

پہلے نیکلسن کو صرف اتنی اجازت تھی کہ اگر امریکی مفادات خطرے میں ہوں تو وہ طالبان یا ایسی کسی قوت کے خلاف آپریشن کر سکتے تھے، یا اگر افغان فورسز مکمل طور پر ناکام ہو جائیں تو امریکی فوج کا استعمال کیا جا سکتا تھا۔

تاہم یہ پابندی اب بھی برقرار ہے۔ گو کچھ نرمی کی گئی ہے۔

افغانستان اب بھی دنیا میں بارودی سرنگوں کے حوالے سے بدترین ملک ہے۔ جہاں 40سالہ خانہ جنگی کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

x

Check Also

rauf kalasra

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی کو قانون کا ڈر نہیں رہا۔ معاشرہ ...