غذائی قلت

زاہد حسن

دنیا کے بہت سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں غذائی قلت کی لہر چلی ہوئی ہے جو یوں تو ہر عمر اور ہر نسل کے انسانوں کو نگلتی چلی جا رہی ہے ۔تاہم اس کا آسان اور بڑا شکار بچے ہی ہوتے ہیں۔ پچھلے تین چار برس کی سندھ کی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو صورت حال پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ شدید گرمی اور قحط کی صورتِ حال میں مجبور اور بے سہارا لوگوں کی حالتِ زار کافی کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس سب کے باوجود پاکستان میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ہزاروں کی تعداد میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ مناسب غذائی سہولیات میسر نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس ماں کی صحت بھی ہے جو بچے کی پیدائش کا سبب بننے سے پہلے ہی سے غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ ان تمام وجوہات پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک کمزور اور بیمار نسل پیدا کرنے کا باعث ہم سب ہیں۔ ہماری ریاست، ہمارے ادارے اور وہ متعلقہ لوگ جو غذائی اشیاءمہیا کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی معلومات فراہم کرنے کے ذمہ دار بھی تھے۔

POVERTY

تاہم اب یہ سارا کام ایک غیر سرکاری، غیر ریاستی تنظیم ادا کر رہی ہے جس کے ساتھ جُڑے ہیں کچھ مخلص لوگ۔ یہ تنظیم پاکستان کے طول و عرض میں اس اہم مسئلے پر کمیونٹی کی سطح پر کر رہی ہے اور جس لگن، محنت اور توجہ کے ساتھ کر رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ میں اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ یہ تنظیم ”سن“ سی ایس اے (سول سوسائٹی الائنس) ملک بھر میں 110 تنظیموں کے ساتھ مل کر آگہی مہم، ایڈوکیسی اور کپیسٹی بلڈنگ کے حوالے سے نیٹ ورک چلا رہی ہے جس میں سروے اور مانیٹرنگ کے بھرپور اور سائنٹفک طریقے کو بروئے کار لایا جاتا ہے جس میں وجوہات، اسباب، حل و سدِّ باب اور مسائل پر قابو پانے کے حوالے سے تجاویز دی جاتی ہیں۔ اب تک کے ہونے والے کام کے حوالے سے پچھلے دنوں لاہور میں مائیکرو نیوٹرنٹ اور سن سی ایس اے کے زیرِ اہتمام میڈیا کے نمائندگان کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس حوالے سے اسے ایک بھرپور اجلاس قرار دیا جا سکتا ہے کہ پروگرام منیجر ارشاد دانش نے متعلقہ موضوع پر ایک بھرپور پریزنٹیشن دی جسے وہاں موجود لوگوں نے نہ صرف سراہا بلکہ اپنے سوالات اور تجاویز کے ذریعے اور متعلقہ موضوع پر ریاستی کردار کے حوالے سے زبردست بحث کی۔ ارشاد دانش، نے نیوٹرنٹ پر پورے ملک سے جمع شدہ ڈیٹا کی روشنی میں مسائل پر قابو پانے اور اس کے حل کے لئے تجاویز مہیا کیں۔ یہ ڈیٹا، ان 110 آرگنائزیشنز کی مدد سے جمع کیا گیا تھا جو مائیکرو نیوٹرنٹ اور سن سی ایس اے کے ساتھ مل کر ملک کے طول و عرض میں کام کر رہی ہیں۔ بتایا گیا کہ سندھ میں صورتِ حال مجموعی طور پر بگاڑ کا شکار ہے۔ جہاں بالحیثیت مجموعی 23 فیصد آبادی کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔

poverty

ارشاد دانش کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی مشترکہ سٹڈی کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے معاشی نظام میں کسی حد تک بہتری آئی ہے تاہم غذائی عدم تحفظ اور ناقص غذا آج بھی پاکستان کے 76 فیصد گھرانوں کا مقدر ہے۔ ارشاد دانش کا کہنا یہ بھی تھا کہ پاکستان کُل آبادی کا تقریباً نصف غذائی قلت کا شکار ہے اور صورتِ حال پچھلی کئی صدیوں سے بہتر نہیں ہوئی۔ پاکستان کا شمار افریقی پسماندہ ملکوں میں ہوتا ہے جب کہ ستم بالائے ستم کہنا چاہئے کہ پاکستان غذائی اجناس کی پیداوار کے حوالے سے خود کفیل بھی ہے۔ اس ضمن میں انتظامی حوالے سے نااہلی، اخلاص و دیانتداری کی کمی، بدانتظامی اور معاشی اور پیداوار کے حوالے سے مناسب طریقہ ¿ کار اختیار نہ کرنے کے ساتھ ساتھ قوم اور عوام سے زیادہ اپنی ذات پر توجہ مرکوز رکھنے کی غیر منصفانہ اور غیر دیانتدارانہ روش ہے جس نے بہ حیثیت قوم ہمیں کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان سب عوامل کے مضر اثرات ہماری موجودہ اور آئندہ نسل پر، بُری طرح سے مرتّب ہو رہے ہیں۔ اور یہ معاشی اور سماجی سے زیادہ جسمانی اور طبعی ہیں اور آپ تصوّر کریں کہ پُوری خوراک نہ ملنے پر مائیں جس طرح کے بچوں کو پیدا کریں گی اور پھر اس غُربت اور کم خوراک کے حصول کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار اور اداروں سے وابستہ یہ نسل کس قسم کا پاکستان تشکیل دے رہے ہوں گے۔ ایسی صورت میں ہمیں اپنی آئندہ نسلوں اور ریاست کا مستقبل داﺅ پر لگا ہی دکھائی دیتا ہے۔ غذائی قلت ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے بُرے اثرات انسانی وجود، اُس کے دماغ، اس کی نفسیات پر براہ راست مرتّب ہوتے ہیں، ظاہر ہے ایسی صورت حال میں آپ ایک زندہ، بیدار اور مطمئن روح کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے ہیں۔

مائیکرو نیوٹرنٹ اور سن سی ایس اے، کی تحقیق کے مطابق ایسی دنیا میں جہاں 1.3، ارب ٹن سالانہ خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔ وہاں لاکھوں لوگ اس غذائی قلت کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، یا پھر وٹامنز کی کمی اور دیگر بے شمار بیماریوں کا شکار ہو کر اپناہج ہو جاتے ہیں، اس ساری صورتِ حال پر ہمدردانہ غور کی ضرورت ہے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آئین کا آرٹیکل 9 اور 38، حکومت کو اس امر کے پابند کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو غذائیت پر مبنی خوراک بلا رنگ و نسل مہیا کرے گی۔

ایسی صورتِ حال میں کہ جب موجودہ نسل خون کی کمی، ہیمو گلوبن، قد میں کمی، بعض اعضاءکے زیادہ بڑھ جانے اور دیگر بے شمار امراض کا شکار ہو رہے ہیں ہمیں ارشاد دانش اور اس کے ساتھیوں ماجد سلہری اور سلیم اشرف جیسے مخلص لوگوں کی باتوں پر نہ صرف غور کرنا چاہئے بلکہ اُن کا دست و بازو بن جانا چاہئے اور ایسے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے۔

x

Check Also

پنجاب  میں  ”بندر” گاہ بن سکتی ہے

تحریر ٜ میاں وقاص ظہیر پانامہ ایشو پر  ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے باہر حکومتی ...