سامعہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

پولیس پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی جہلم میں پراسرار موت کی گتھی سلجھانے میں ناکام ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سامعہ شاہد کی گردن پر نشان تھے اور منہ سے جھاگ بھی نکل رہے تھے ۔

ذرائع کا کہنا ہے سامعہ کے سابق شوہر آج پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے ، مرکزی ملزم شکیل چودھری نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ سے ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کی تھی ۔

عدالت نے ملزم کو شامل تفتیش ہونے اور چھ اگست کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سامعہ کے قتل کی کیمیکل ایگزامی نیشن رپورٹ دو روز میں آئے گی جس کے بعد تحقیقات میں اہم پیشرفت متوقع ہے ۔

دوسری شادی کے بعد شوہر کے ساتھ دبئی میں مقیم سامعہ کو اہل خانہ نے والد کی بیماری کا کہہ کر جہلم کے نواحی گاوں پنڈوریاں میکے بلایا ۔

16 جولائی کو پاکستان پہنچے والی سامعہ کی لاش 20 جولائی کو سابق شوہر کے گھر سے ملی ۔

پولیس نے واقعے کے بعد کئی دنوں تک مقدمہ درج کرنے کی زحمت تک گوارہ نہ کی ۔

مقتولہ سامعہ کا شوہر مختار کاظم پاکستان پہنچا اور سامعہ کے والدین، بہن ، کزن اور سابق شوہر شکیل کے خلاف مقدمہ درج کرایا مگر پولیس نے پھر بھی ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی ۔

برطانوی حکومت نے اپنی شہری کی ہلاکت پر آواز اٹھائی تو پولیس کو ملزم شکیل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھنا پڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے لیے کیمیکل رپورٹ کا انتظار ہے ۔

پولیس نے سامعہ کے برطانیہ میں تنسیخ نکاح سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو بھی خط لکھ دیا ہے جبکہ ملزم شکیل عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرانے کے بعد تھانے میں پیش ہو گیا ۔

x

Check Also

دھرنوں کا باب بند کرنا ہوگا، چودھری نثار

دھرنوں کا باب بند کرنا ہوگا، چودھری نثار

سابق وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو بنانا ری پبلک بنانے ...