قطر کی کہانی

رابرٹ فسک

امیر قطر اپنی سلطنت کو کیسے چلاتا ہے؟  آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ شیخ تمیم کی برطانیہ، چین، فرانس، سوئٹزرلینڈ ، جرمنی، اٹلی ، امریکہ اور اسپین میں 193ارب ڈالر کی سرمایہ کاری موجود ہے۔

یہ ملک 120ارب ڈالر سے فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد کر رہا ہے۔ تاہم اس چھوٹے سے ملک کے امیر کو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا گیس برآمد کرنے والا ملک ہے، یہاں امریکہ کی سب سے بڑی نیول بیس موجود ہے، اس کے پاس الجزیرہ ہے جو برطانوی سامراج کی کمپنیوں کی مانند اس کی حفاظت کر رہا ہے، اس کی کل آبادی کا صرف 10فیصد قطری افراد پر مشتمل ہے، تو پھر مسئلہ کس چیز کا ہے؟

جب سڑکیں صاف کرنے والے سے نیوکلیئر ماہرین تک 90فیصد آبادی غیر ملکی ہو، جب شیخ حماد کی دوسری بیوی ، یعنی تمیم کی والدہ شیخ موذا ملک میں مردوں سے زیادہ طاقتور ہے، حماد کے دوست طالبان اور القاعدہ ہوں  اور بیوی ملک میں جدید یونیورسٹیاں بنانے میں لگی ہو تو مسائل ہوتے ہیں لیکن انہیں چھپایا جاتا ہے۔

شیخ حماد نے 1995 میں سفید بغاوت کے ذریعے اپنے والد خلیفہ کو تخت سے اتار دیا، وہ اس وقت اپنے پیسے گننے میں مصروف تھے۔حماد  کے سابق مالی ایڈوائزر اور لبنان کے ماہر اقتصادیات مروان سکندر کا کہنا ہے کہ قطر اپنے مسائل کو چھپاتا ہے اور وہاں بے تحاشا مسائل موجود ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے ہمسایوں سے بہتر انداز میں چیزوں کو چلا سکتا ہے۔

تمیم کے اقتدار سنبھالنے سے کئی سال پہلے شیخ حماد   سے ملنے کے لئے برطانوی وفد آیا۔ وہ باہر انتظار کر رہے تھے لیکن شیخ ملنا نہیں چاہتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کو امریکہ اور برطانیہ عراق پر پالیسی کی وجہ سے ناپسند ہیں تو انہیں نکال کیوں نہیں دیتے؟ یہاں امریکی بیس کیوں بنائی ہوئی ہے۔ انہوں نے تاریخی جواب دیا،’’ایسا کیا تو تمام عرب بھائی مجھ پر حملہ آور ہو جائیں گے، چیتھڑے بھی نہیں بچیں گے۔‘‘

حماد نے 2013میں تمیم کے سامنے اپنا تخت چھوڑ دیا اور پھر اپنی پالیسیوں پر بھی شرمندگی کا اظہار کیا۔ تمیم نے سعودی عرب کے حوالے سے باپ کی پالیسی جاری رکھی اور حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا۔ تاہم اس نے القاعدہ اور النصرت فرنٹ کی معاونت بند کر دی۔ اپنی والدہ کی حکمت عملی قائم رکھتے ہوئے برطانیہ کی بہترین یونیورسٹیوں کے کیمپس ملک میں قائم کرتا رہا۔

سکندر کے بقول موذا انتہائی خوبصورت خاتون ہے، وہ جسمانی خدو خال سے لے کر ذہنی پختگی تک لاجواب ہے۔ اسی وجہ سے حماد اس کے سامنے بے بس ہو گیا تھا۔ اس کا بجٹ 15 ارب ڈالر تھا۔ وہ عرب خطے میں مسلمان خواتین کی نشاۃ ثانیہ میں لگ گئی، بلکہ اب مسلمان خواتین کی آئیکون ہے۔بے شک وہابی نظریاتی لوگوں نے اس پر بے حد تنقید بھی کی ہے ۔

قطر کے فرانس سے تعلقات کو سکندر نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق حماد اور موذا نے 2007 میں ائیربس سے 13ارب ڈالر کا معاہدہ کیا، پھر سرکوزی نے انہیں فرانس کی ملٹری پریڈ میں بلایا اور انہیں خصوصی اپارٹمنٹ میں بٹھا کر پریڈ دکھائی۔ اس خصوصی تقریب میں ان کا ایک اور بیٹا شیخ جوان بن حماد بھی شامل تھا۔

اس سال سرکوزی نے قطر کا دور کیا اور ایک فاش غلطی کی، اس نے قطر میں دو دن گزارے جبکہ سعودی عرب سے چند گھنٹوں بعد ہی واپس آ گیا۔ اس واقعے کے بعد فرانس کو سعودی عرب کی جانب سے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

قطر کی مدد سے ہی بلغاریہ اور فلسطین کے ڈاکٹروں کو کرنل قذافی سے آزادی ملی تھی۔ سرکوزی کی سابق اہلیہ سسلیا  جس نے بعد میں ایک نیویارک کے عام کارباری شخص سے شادی کی، ان تمام افراد کو الیکشن کی رات لے کر فرانس پہنچی تھی۔

اسکندر کے مطابق سرکوزی نے امیر قطرکو 2008میں کہا تھا کہ وہ سسلیا سے طلاق لینا چاہتا ہے کیونکہ  اب وہ اداکارہ برونی سے عشق کرتا ہے۔ تاہم اس کی بیوی کہتی ہے کہ اسے 3 ملین یورو دے پھر وہ طلاق لے گی۔ سرکوزی کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے جس پر امیر قطر نے پیسے ادا کیے اور پھر سرکوزی کی بیوی نے طلاق لی۔

اس کے بدلے فرانس نے ایسی قانون سازی کی جس کی وجہ سے قطر کے افرادکو بے تحاشا فائدہ ہوا۔ تمام قطری افراد کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی۔ انہیں پراپرٹی خریدنے سے لے کر کاروباری سرمایہ کاری تک بہت سے فوائد پہنچائے گئے۔

برطانیہ میں بھی قطر کی سرمایہ کاری کم نہیں ہے، شیل ، براکلیز، شیرڈ سے لے کر ہر کمپنی میں ان کا پیسا موجود ہے۔ شاید تمیم اور حماد مریں تو شاہ عبداللہ کی طرح برطانیہ کو اس بار بھی اپنا جھنڈا سرنگوں کرنا پڑ جائے۔

تمیم اپنے والد جیسا نہیں بلکہ اپنی ماں کی طرح ہے۔ اس نے الجزیرہ کو ہمسایہ ممالک پر بے جا تنقید سے روکا۔ امریکہ میں اس کا ناکام پراجیکٹ بند کیا۔ اس نے سرکاری طور پر النصرت کی فنڈنگ بند کی اور صرف علاقے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوارک بھیجنے تک اپنے ملک کو محدود کیا۔ تاہم ایران کے معاملے میں وہ سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔

سکندر کا خیال ہے کہ قطر ورلڈ کپ کے لئے اتنا بڑا انفراسٹرکچر نہیں بنا سکتا۔

شاید الیکشن کی مدد سے امیر قطر ملک کو ایک نئی جہت دینے کے قابل ہو جائے۔ قطری عوام کو غیرملکی تحفظ پر شدید خدشات ہیں لیکن جس ملک میں اپنی آبادی کم ہو اور ہر ایک دولت مند ہو تو وہاں بغاوت سے صرف غیر ملکی ساتھ ہی بچا سکتا ہے۔ تاہم جمہوریت اور عوام پر سے پابندیوں کا خاتمہ بھی اس ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

x

Check Also

rauf kalasra

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی کو قانون کا ڈر نہیں رہا۔ معاشرہ ...