اردو افسانہ، آغاز و ارتقا

ڈاکٹر رضوان احمد مجاہد

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہَ اردو

گورنمنٹ کالج ٹاوَن شپ لاہور

اردو میں داستان کا باقاعدہ آغاز فورٹ ولیم کالج کا مرہون منت ہے۔ بعد ازاں داستانوں کے خلاف بطور ردعمل اور کچھ انگریزی اثرات کے باعث اردو ناول وجود میں آیا۔ ناول میں پہلی دفعہ بے سروپا باتوں اور مافوق الفطرت عناصر کے بجائے زندگی کے حقائق کو پیش کیا جانے لگا۔ ناول کے ساتھ ہی مختصر افسانہ کا وجود بھی عمل میں آیا جو سبب تھا انسان کی بڑھتی ہوئی مصروفیات اور مغربی اثرات کا۔ افسانہ دراصل مشینی دور کی پیداوار ہے کہ اس دور میں انسان کے لیے داستانیں اور ناول پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔

افسانہ کی تعریف کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ اس لیے اس کی جامع تعریف مشکل ہے۔ تاہم ہم کہہ سکتے ہیں کہ افسانہ ایک خاص پس منظر میں کسی خاص یا عام واقعات یا تصور زندگی کے کسی پہلو کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنے کا نام ہے۔ افسانہ اختصار کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں قصہ، پلاٹ، کردار نگاری، وحدت تاثر اور اسلوب کی چاشنی بھی ازحد ضروری ہے۔ ان سب اصول و ضوابط کے باوجود افسانے کا فن جامد و ساکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید افسانہ تجربات کا مرہون منت ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایک افسانہ نگار انہی قواعد و ضوابط کو افسانہ لکھتے وقت پیش نظر رکھے بلکہ وہ خود بھی تجربات کر سکتا ہے۔ ان تجربات کا انحصار افسانہ نگار کی ذہنی صلاحیتوں پر ہے کہ وہ کس نوعیت کی تخلیق پیش کرتا ہے۔

اردو افسانے کے آغاز کے حوالے سے اگرچہ سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتح پوری، علامہ راشد الخیری اور خواجہ حسن نظامی کا ذکر بھی کیا جاتا ہے لیکن اردو افسانے کی ابتدا کا سہرا حقیقتاً منشی پریم چند ہی کے سر بندھتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف تواتر سے افسانے لکھے بلکہ اس کے ارتقائی سفر میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ انہی کا دم تا کہ اردو افسانہ نئی تخلیق فضا اور ماحول سے آشنا ہوا۔

یہ پریم چند ہی ہیں جو اردو افسانے کو داستانی ماحول سے الگ کر کے زندگی کے قریب لائے۔ ان کے ہاں ہندوستانی معاشرہ اپنے حقیقی روپ میں نظر آتا ہے (۱)۔

اُن کے کردار اپنے گرد و پیش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں کسان، مزدور اور غریب طبقے کے گھرانوںا ور اُن کے ماحول کا ذکر بہت باریک بینی سے کیا گیا ہے۔

پریم چند کے افسانوں میں ہندوستانی کسان، مزدور اور غربت کی چکی میں پستے ہوئے پریشان حال لوگوں کی عادات و اطوار اور رسم و رواج کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جیتی جاگتی تصویریںہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔

پریم چند اپنے افسانوں کے ذریعے اخلاقی درس دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اُن کے کردار،محنت اور انسانی عظمت کے مختلف پہلوئوں کو اُجاگر کرتے ہیں۔ وہ اپنے کرداروں کی مدد سے معاشرتی برائیوں کی اصلاح کاکام بھی لیتے ہیں۔

پریم چند ایک باشعور اور بالغ ذہن ادیب کی حیثیت سے اپنے دور میں اٹھنے والی آزادی کی اُمنگ سے بھی لاتعلق نہیں رہتے۔ اس حوالے سے اُن کے افسانے ‘آشیاں برباد’ اور ‘ڈائل کا قیدی’ اُن کے بدلتے ہوئے رجحانات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

عمر کے آخری حصے میں پریم چند ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے 1936ء میں منعقدہ ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کی صدارت بھی کی۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ہی انہوں نے افسانہ ‘کفن’ لکھا۔ تاہم وہ دیگر ترقی پسندوں کی طرح کسی خاص نظریے کا پرچار نہیں کرتے بلکہ اُن کی تحریروں میں مقصد زیر سطح ہی رہتاہے۔

اردو افسانے کا ایک اور نمایاں نام کرشن چندر کاہے۔ کرشن چندر بنیادی طور پر مارکسیت پر یقین رکھنے والے افسانہ نگار ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر اشتراکی ادیبوں کی طرح ادب برائے اور شدت سے حقیقت نگاری کے قائل ہیں لیکن اُن کے ہاں پائی جانے والی رومانیت اُن کے اشتراکی ذہن کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک دلکش امتزاج کا سبب بنتی ہے۔ بقول ڈاکٹر انور سدید، کرشن چندر طبعاً رومانی ضرور ہیں لیکن ان کی معروضیت گہرے سماجی شعور کی عکاس ہے(2)۔کرشن چندر سماج اور انسانی مسائل کو اہم موضوعات کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اُن  کے ہاں وسیع تر مشاہدہ کی نمائندگی ہوتی ہے۔ وہ معمولی واقعات سے بھی افسانے تخلیق کر ڈالتے ہیں۔ اُن کے ہاں زندگی کا ربط اور بے ربطی پر دونوں کا اظہار افسانوں کی شکل میں ہوا ہے۔

کرشن چندر کا شمار اہم ترقی پسند افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ا پنے افسانوںمیں وہ زندگی کے حقائق اور مسائل بیان کرتے وقت بھی ترقی پسند نظریات کو پیش نظر رکھتی ہیں۔ جہاں تک کرشن چندر کی حقیقت نگاری کا تعلق ہے تو اس سے قطع نظر کہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ زندگی کابہت باریکی اور گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ انسان کی محرومیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اُن کے ہاں زندگی سانس لیتی ہوئی اور آگے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ان کے افسانے، ان داتا، گرجن کی ایک شام، بالکونی اور پیاسا وغیرہ اس کی عمدہ مثال ہیں۔

اُن کا اسلوب رومانیت سے گندھا ہوا ہے جو تلخ سے تلخ بات اور کریہہ سے کریہہ واقعہ کو بھی فطری رعنائی بخش کر قابل قبول بناتا ہے۔ البتہ کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کے غلبے کی بنا پر اُن کے ہاں جذبے کی کمی ضرور محسوس ہوئی ہے۔ بحیثیت مجموعی کرشن چندر اردو افسانے کا ایک نمایاں نام ہے جس نے اردو افسانے کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسی دور کی ایک اور افسانہ نگار عصمت چغتائی ہیں جن کے اردو افسانے پر انگریزی افسانوی ادب کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔ اُن کے افسانوں میں ایک ایسی عورت کی تصویر کشی کی گئی ہے جو مشرق کی مروجہ روایات اور نسوانیت سے آمادہ بغاوت ہے۔ عصمت کے ہاں جنس کے مسائل بہت شدومد سے زیر بحث آئے ہیں۔ اس حوالے سے ‘چوٹیں’ اور ‘لحاف’ اُن کی نمائندہ تحریریں ہیں۔ جس میں انہوں نے جنسی جذبے کو زندگی کی اہم ترین اور بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ اُن کے نزدیک اس جذبے کی تسکین کی خواہش عین فطرت ہے۔

عصمت چغتائی کے ابتدائی افسانوں میں نوجوانوں اور اُن کے مسائل کا تذکرہ بھی بھرپور انداز میں ملتا ہے لیکن اُن کی یہ حقیقت نگاری توازن کے فقدان کی بنا پر زیادہ مؤثر نہیں ٹھہرتی بلکہ لذت پسندی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

اردو افسانے کے ابتدائی خدوخال نمایاں کرنے میں ایک اور افسانہ نگار کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خواجہ احمد عباس ہیں۔ خواجہ احمد عباس کے بارے میں ڈاکٹر انور سدید کی رائے ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے ایک رپورٹر کی حیثیت رکھتے ہیں (3)۔لیکن خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا مجموعی جائزہ لیں تو یہ بات زیادہ قرین قیاس نہیں لگتی۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جو زندگی کی تعمیر میں سماجی مسائل اور سیاسی الجھنوں کی اہمیت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ اُن کا مشاہدہ اور تخلیقی قوت دونوں جاندار ہیں البتہ کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کے غلبے کی بنا پر اُن کی حقیقت نگاری پر غیر فطری ہونے کا گماں ضرور گزرتا ہے۔ اس حوالے سے ان کے افسانے سردار جی، انتقام اور شکر اللہ وغیرہ کی مثال دی جا سکتی ہےلیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے بعض افسانے نظریے اور جذبے کا خوبصورت امتزاج بھی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کا افسانہ ‘پسماندگان’ ایک نمایاں مثال ہے۔ جس میں وہ ایک بڑے افسانہ نگار کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

اردو افسانہ کی تاریخ میں ایک نام احمد علی کا بھی ہے جنہوں نے اردو افسانے کے پرسکون پانیوں میں اپنے مشترکہ افسانوی مجموعے ‘انگارے’ سے ارتعاش پیدا کیا۔ دسمبر 1932ء میں نو افسانوں اور ایک ڈرامے پر مشتمل مجموعہ ‘انگارے’ منظر عام پر آیا۔ اس مجموعے میں احمد علی کے ساتھ سجاد ظہیر، رشید جہاں اور محمود الظفر کے افسانے بھی شامل تھے۔ ان افسانوں کے موضوعات اور لب و لہجہ اشتعال انگیزی کا باعث بنا۔ جس نے اس کتاب کو اردو افسانوی ادب میں نمایاں کر دیا۔ انتظار حسین ‘انگارے’ کے اسلوب اور موضوعات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ‘انگارے’ نے ایک غلط روایت کی طرح ڈالی بعد میں آنے والوں نے یہ سمجھا کہ افسانے میں سنسنی کی ضرورت ہے(4)۔

انگارے کے افسانوں سے بے شک اردو افسانے میں سنسنی خیزی اور اشتعال کی ایک لہر تو آئی لیکن اس نے اردو افسانے کے ارتقا میں بہت سے در وا بھی کر دیئے۔ اس کے ساتھ ہی اردو افسانے کی بساط پر ایسے لکھنے والے نمودار ہوئے جنہوں نے ‘انگارے’ کے اسلوب کو اپنا راہنما بنایا اور کچھ پرانے لکھنے والوں کے قلم سے بھی انقلابی افسانے تخلیق کروائے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر انوار احمد کی رائے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ‘انگارے’ کے افسانوں نے نہ صرف ہندوستان کے سیاسی اور مذہبی واقعوں میں ہلچل پیدا کی بلکہ ادبی اور فنی تصورات کی دنیا کو بھی اتھل پتھل کر دیا (5)۔

ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر قمر انیس کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ ‘دُلاری’ اور ‘انگارے’ کی دوسری کہانیوں میں فن کا وہ نیا تصور تھا جس نے نہ صرف حیات اللہ انصاری اور سہیل عظیم آبادی جیسے نوجوان ادیبوں کو متاثر کیا بلکہ پریم چند ایسے کہنہ مشق ادیبوں کو بھی اپنے فن کی پرانی روش بدلنے اور ‘کفن’ اور ‘بیولی’ جیسے افسانے لکھنے پر اکسایا۔”(6)

‘انگارے’ کی اشاعت نے احمد علی کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ احمد علی کے افسانوں نے اردو افسانے میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ ‘انگارے’ میں شامل ان کے افسانے، ‘بادل نہیں آتے’ اور ‘مہاوٹوں کی ایک رات’ مٹتی ہوئی تہذیب پر ایک جرأت مندانہ طنز کی علامت ہیں۔ انہوں نے یہ طنز نہایت بے باکی سے کیا ہے۔ گو ان کے ہاں اعتدال اور توازن کا فقدان ہے لیکن ان کے ہاں پائی جانے والی سنسنی خیزی، برصغیر میں پائی جانے والی ان دنوں کی سیاسی و سماجی کشمکش اور تحریکوں کی عکاس ہے۔

اردو افسانے کے ارتقائی سفر میں مختلف افسانہ نگاروں نے رخت سفر باندھا۔ کچھ دو چار گام پر ہی ساتھ چھوڑ گئے اور کچھ تادیر شریک سفر رہے۔ ایسے ہی افسانہ نگاروں میں اختر حسین رائے پوری، علی سردار جعفری اور احتشام حسین شامل ہیں۔ ان کے ہاں زندگی کی ناہمواری اور اتار چڑھائو بنیادی موضوع ہے۔ سیاسی کشمکش اور مختلف تحریکوں کے اثرات بھی ان کی تحریروں پر نمایاں ہیں۔ اختر حسین رائے پوری ٹیگور سے متاثرہیں جبکہ علی سردار جعفری اور احتشام حسین ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہیں۔

اس قافلے میں اختر انصاری اور حیات اللہ انصاری بھی شامل ہیں۔ اختر انصاری کے ہاں بورژوا سماج کے استبداد اور پرولتاری جماعت کی مظلومیت سے آویزش پیدا کی گئی ہے۔ فنی اعتبار سے اُن کے افسانے کمزور ہیں کیونکہ وہ مقصدیت کابوجھ سہارنے سے قاصرہیں۔ حیات اللہ انصاری کے ہاں زمینی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ خاص طور پر سماجی اور معاشی بدحالی کے واقعات ان کے افسانوں کا موضوع ہیں۔ اُن کا اسلوب اور موضوع توازن اور اعتدال کی مثال ہے۔ وہ انسانی کرب اور پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے واقعیت اور حقیقت نگاری کو اعتدال سے محروم نہیں ہونے دیتے۔

اردو افسانے کی روایت میں ایک نمایاں نام راجندر سنگھ بیدی کا ہے۔ ان کے افسانوں میں پائی جانے والی معروضیت ان کے جذبے کو معتدل کرتی ہے۔ ان کے موضوعات زمین سے شروع ہو کر زمین پر ہی لوٹ آتے ہیں۔ انسان اس کائنات کا مرکز و محور ہونے کے باوجود اس کائنات میں سب سے محروم اور دکھی مخلوق ہے جو احساس اور شعور رکھنے کی بنا پر ہر لمحے تڑپتی اوربے قرار رہتی ہے۔ بیدی کے افسانوں میں انسانی کرب اورپریشانیوں کو پیش تو کیا گیا ہے لیکن ان کے اسلوب کی لطافت اور جذبے کے سبب کہیں بھی یہ کرب اور پریشانیاں اشتہار نہیں بنتیں۔

راجندر سنگھ بیدی کے ہاں تجربے کی گہرائی سے صداقت کا ظہور ہوا ہے۔ جس نے اُن کے افسانے کو نئی معنویت عطا کی ہے۔ ان کے افسانے گرم کوٹ، دوسرا کنارہ، متھن، لاجونتی اور گرہن اس حوالے سے عمدہ مثال ہیں۔

اوپندر ناتھ اشک بھی اردو افسانہ نگاری میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے نچلے اورمتوسط طبقوں کی معاشی، سماجی اور جنسی محرومیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے موضوعات کابنیادی ماخذ زمین اور اُس پر بسنے والا انسان ہی ہے۔ یہ موضوع روز ازل ہی سے ہر لکھنے والے کا موضوع رہا ہے لیکن انداز بیاں اور جذبے کی صداقت و گہرائی نے ہر لکھنے والے کو امتیاز بخشا ہے۔ اوپندر ناتھ اشک بھی زمین اور اس کے باسیوں کی محرومیوں اور دکھوں کو موضوع سخن تو بناتے ہیں لیکن ان کے ہاں جذبے کی چاشنی، انہیں روایتی ترقی پسندی کے منصب سے کہیں بلند کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے ہاں اقدار کی تخریب کے بجائے ایک صحت مند تبدیلی کا ماحول ملتا ہے۔ ان کے افسانے قفس، ڈاچی اور چیتن کی ماں، اس حوالے سے عمدہ مثالیں ہیں۔

اردو افسانے کے ارتقائی سفر میں ایک نمایاں افسانہ نگار، جس کے بغیر اردو افسانے کا تذکرہ نامکمل رہے گا وہ سعادت حسن منٹو ہے۔ بلاشبہ وہ عظیم افسانہ نگار ہیں۔ اس کے باوجود کہ منٹو پر جنس نگاری کی چھاپ لگی ہوئی ہے لیکن انہوں نے دوسرے بہت سے موضوعات پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ سعادت حسن منٹو نہایت بے باکی سے کہانی بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ حقیقت نگاری کیباوجود اپنے اسلوب میں کہیں سپاٹ پن نہیں آنے دیتے۔ منٹو نے اپنے افسانوں میں اگر طوائف ہی کو زیادہ موضوع بنایا ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ اُس کا ماحول ہے۔ امرتسر جہاں منٹو کا بچپن گزرا،وہاں شہر کے درمیان ایک طویل بازار حسن تھا۔ پھر جب منٹو بمبئی آئے تو یہاں بھی قدم قدم پر انہیں، اُن کی پسند کے کردار ملے۔ شہر سلطانہ، ممدو بھائی، مسز ڈی کوسٹا اور گوپی ناتھ، ممبئی کے ہی کردار ہیں۔

سعادت حسن منٹو زندگی کو سرسری نظر سے نہیں دیکھتے، وہ بہت باریک بینی سے گردوپیش کا جائزہ لیتے ہیں اور نہایت بے باکی سے پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیتے ہیں۔ یہ پوسٹ مارٹم اتنی بے رحمی سے ہوتے ہیں کہ بعض اوقات تو کراہت محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار، بلاؤ اور کھول دو جیسے افسانے لکھتے ہیں تو دوسری طرف نیا قانون اور تماشا جیسے افسانے لکھ کر اپنے سماجی و سیاسی شعور کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت عمدہ افسانہ نگار بھی ہیں۔ اردو افسانے کی ترویج میں اُن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کے افسانوں میں مقصدیت اور حقیقت نگاری کار فرما ہے۔ اُن کی مقصدیت اور حقیقت نگاری رومانیت کے زیر اثر ایک منفرد اسلوب متعارف کراتی ہے۔ اُن کے افسانوں میں دیہاتی اور شہری زندگی کے تصادم سے ایک اچھوتی فضا تیار کی گئی ہے۔ الحمد اللہ، کنجری، مامتا، کپاس کا پھول، سناٹا، رئیس تھانہ، بندگی، طلوع و غروب، اُن کے نمائندہ افسانے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی کے افسانے فکری اور اسلوبیاتی اعتبار سے ان کی مہارت کے گواہ ہیں۔ انہیں کہانی کی بنت کاری اور کرافٹنگ پر دسترس حاصل ہے۔

اردو افسانہ نگاری میں ایک اورمعتبر نام قراة العین حیدر کاہے۔ انہوں نے اودھ کے جاگیردار طبقے اور آئی سی ایس افسروں کے متعلق اپنی کہانیوں کا آغاز کیا۔ قراة العین حیدر کے افسانوں میں تقسیم ہند کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات نے ایک اچھوتا کرب نمایاں کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ اپنے دیگر ہم عصر لکھنے والوں سے مختلف انداز میں لکھتی ہیں۔ وہ لٹی ہوئی عصمتوں پر آنسو نہیں بہاتیں، اُن کے افسانوں میں تباہی و بربادی کا نوحہ نہیں ہے۔ کیونکہ انہیں اس سے غرض نہیں ہے کہ کیا ہوا بلکہ وہ اپنی تمام تر توجہ اس پر رکھتی ہیں کہ کیوں ہوا۔

قراة العین حیدر کا شمار بھی ارضی رجحان رکھنے والے علمبرداروں میں ہوتا ہے۔ اُن کے موضوعات اپنے گردوپیش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں ‘غفران منزل’ اور ‘کنور لاج’ کا ذکر ہے تو وہیں معمولی ٹائپسٹ لڑکیوں اور ریڈیو سٹیشنوں کے برآمدوں میں انتظار کرتی طوائفوں کا تذکرہ بھی ہے۔

آزادی کے بعد اردو افسانے کے اسلوب اور موضوعات پر دو تنوع پیدا ہوا۔ بہت سے جدید لکھنے والوں نے اس میں تجربات کے در وا کیے ہیں۔ان لکھنے والوںمیں ایک غلام عباس بھی شامل ہیں۔ جن کی افسانہ نگاری کا آغاز آزادی سے پہلے ہی ہو چکا تھا لیکن آزادی کے بعد انہوں نے اپنے منفرد اسلوب اور موضوعات کی بنا پر، اپنا جداگانہ رنگ جمایا۔ اُن کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے۔ وہ زندگی کوبہت قریب سے دیکھتے ہیں اور جذئیات نگاری کو برائے کار لاتے ہوئے واقعیت نگاری کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب رواں اور سادہ ہے۔ اُن کے اکثر کردار دوہری شخصیت کے حامل ہیں جو کہانی میں چونکا دینے کا سبب بنتے ہیں۔

ممتاز مفتی ایک اور افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو افسانے میں نفسیاتی مطالعہ کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ ممتاز مفتی کے کردار بظاہر عام زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں لیکن وہ انہیں نفسیات کی آنکھ سے دیکھ کر مختلف بنا دیتے ہیں۔ ممتاز مفتی کے اکثر افسانوں میں تو انسانی فطرت کا نفسیاتی مطالعہ کسی ماہر نفسیات کی طرح کیا گیاہے۔

اشفاق احمد کے افسانوں کامرکزی نقطہ محبت ہے لیکن اس کے باوجود ان کے ہاں زندگی کا کرب اور اس کی پریشانیوں کا اظہار بھی ہوا ہے۔ حقیقت میں اُن کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے اور ان موضوعات کے لیے جو جذبہ مہمیز کا کام کرتا ہے وہ اُن کی والہانہ محبت ہے جو اُن کے افسانوں کا احاطہ کیے رکھتی ہے۔

اردو افسانے کے ارتقائی مراحل میں جس افسانہ نگار کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، وہ انتظار حسین ہیں جنہوں نے کہانی کو ایک نیا پن عطا کیا۔ انہوں نے اردو افسانے کے اسلوب کو ایک نئی جہت بخشی۔ تجسیم، تجدید اور علامت نگاری کے نت نئے تجربات کیے اور اردو افسانے کو دیگر زبانوں میں لکھے جانے والے شاہکار افسانوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔

موجودہ دور تک پہنچتے پہنچتے اردو افسانہ مختلف مراحل اور تجربات سے گزرا ہے۔ اس میں موضوعات اور اسلوب کے نت نئے تجربات کیے گئے ہیں۔ یہ تجربات جہاں مختلف شخصیات کے مزاج اور صلاحیتوں کے مرہون منت ہیں وہاں حالات و واقعات اور زندگی کی سماجی اور سیاسی جہتوں میں آنے والی نت نئی تبدیلیاں بھی اس کا سبب ہیں۔ بین الاقوامی تحریکیں اور بدلتے ہوئے تہذیبی و سماجی رجحانات بھی اردو افسانے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

فرانس سے شروع ہونے والی علامتی تحریک کے اثرات بھی ہمارے افسانہ نگاروں نے لیے۔ اس کے ساتھ ہی فرائیڈ اور ژونگ کے خیالات سے بھی اردو افسانہ محفوظ نہ رہ سکا۔ گو یہ خیالات اردو افسانے میں قدرے تاخیر سے داخل ہوئے لیکن ان کے اثرات اجتماعی سوچ اور زندگی پر ظاہر ضرور ہوئے۔ شعور کی رو کے تحت افسانے لکھے گئے۔ شعور و لاشعور کو موضوع بحث بنایا گیا۔

حسن عسکری نے شعور کی رو کے حوالے سے افسانے لکھے۔ ان کے افسانوں میں اُن ناآسودہ خواہشات کو موضوع بنایا گیا جو معاشرے کی پابندی کے باعث آسودہ نہیں ہو پاتیں۔ ان کے افسانوں میں پلاٹ کی ترتیب کا اتنا خیال نہیں رکھا گیا۔ محض شعور کی غیر مربوط رو سے ہی کہانی اور کرداروں کے خدوخال ترتیب دیئے گئے ہیں(7)۔

مغرب کے زیر اثر ممتاز شریف نے بھی اپنے افسانوںمیں علمیت کا اظہار کر کے اپنے قاری کے لیے ذہنی ورزش کا خوب اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی تجربات کو گرفت میں لانے کے لیے محض حال ہی سے واسطہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ماضی میں تاریخ اور دیومالاؤں میں اس کے رشتے اور جڑیں تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ یہ انہیں لکھنے والوں کا اعجاز ہے کہ اردو افسانہ نگاری اور فرانسیسی ہم عصر افسانوں کے مقابل آ کھڑا ہوا ہے۔

موجودہ عہد میں اردو افسانے کی تکنیک پر بھی بے شمار تجربات ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تکنیک کے اعتبار سے آج اس میں بے پناہ تنوع پایا جاتا ہے۔ آج کا افسانہ تجسیم اور تجرید کے بین بین اپنا سفر طے کر رہا ہے۔ دہری سطح کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں، جنہیں قاری کے لیے سوچنے اور خود کو کہانی میں شامل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ اس طرز کی کہانی میں مشتاق قمر، منشا یاد اور سلیم آغا قزلباش بہت نمایاں ہیں۔ خالدہ حسین احمد کی کہانیوں میں قدرے ابہام پایا جاتا ہے البتہ ان کا نقطہ نظر بین السطور جاری و ساری رہتا ہے، اسی طرح مرزا حامد بیگ کی کہانیوں میں بھی ابہام کی فضا ضرور ہے لیکن اُن کی کہانی کو سمجھنا بھی مشکل نہیں ہے(8 )۔

اردو افسانے کے ارتقا اور ترقی میں اوربہت سے افسانہ نگاروں کا خون جگر بھی صرف ہواہے۔ جن کا ذکر علیحدہ سے نہیں ہو سکا تاہم اُن کے بغیر اردو افسانے کی داستان ادھوری رہے گی۔ ان میں سے کچھ نام یوں ہیں:

شیر محمد اختر، قدرت اللہ شہاب، شوکت صدیقی، آغا بابر، شمس آغا، منشا یاد، انور سجاد، مظہر الاسلام، رشید امجد، مستنصر حسین تارڑ، غلام الثقلین نقوی، جوگندر پال، رام لعل، جیلانی بانو، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، بانو قدسیہ، نشاط فاطمہ، عذرا اصغر، امجد الطاف، صلاح الدین اکبر، رحمان مذنب، الطاف فاطمہ،مسعود مفتی، جمیلہ ہاشمی، فرخندہ لودھی، سائرہ ہاشمی، احمد جاوید، احمد دائود، مظہر الاسلام، اعجاز راہی، نیلوفر اقبال، محمد الیاس، نیلم احمد بشیر، شمشاد احمد، جمیل احمد عدیل، ابدال بیلا، امجد طفیل اور محمد عاصم بٹ۔

 

حوالہ جات:

1 ۔۔انور سدید، ڈاکٹر، اردو ادب کی تحریکیں، انجمن ترقی اردو، پاکستان، لاہور 1999ئ، ص 507۔

2 ۔۔ایضاً۔

3 ۔۔ایضاً۔

4 ۔۔انتظار حسین، نقوش (افسانہ نمبر) مدیر محمد طفیل، لاہور، 1955ئ، ص 80۔

5 ۔۔انوار احمد، ڈاکٹر، اردو افسانہ تحقیق و تنقید، بیکن ہائوس، ملتان، 1988، ص 146۔

6 ۔۔ایضاً۔

7 ۔۔انور سدید، ڈاکٹر، اردو ادب کی تحریکیں، ص 583۔

8 ۔۔غلام الثقلین نقوی، اوراق (ماہنامہ) مدیر وزیر آغا، لاہور، جولائیـاگست، 1997۔

One comment

  1. Pingback: Dunya Today

x

Check Also

پنجاب  میں  ”بندر” گاہ بن سکتی ہے

تحریر ٜ میاں وقاص ظہیر پانامہ ایشو پر  ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے باہر حکومتی ...