قابل تجدید توانائی، روزگار کا ذریعہ

توانائی کے قابل تجدید ذرائع جن سے اس وقت دنیا بھر میں 9.4 ملین افراد کا روزگار وابستہ ہے، عالمی افرادی قوت کے لیے روزگار کی مشین ثابت ہو رہے ہیں۔ اس شعبے میں روزگار کے نئے مواقع میں چین، برازیل اور امریکا بہت آگے ہیں۔

قابل تجدید توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی( IRENA) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ماحول دوست توانائی کے ذرائع کو دی جانے والی ترجیح کا ایک واضح نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں 9.4 ملین انسانوں کا روزگار انہی ذرائع سے جڑا ہوا ہے۔

ان میں سے بھی 8.1 ملین سے زائد کارکن شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے، بائیو انرجی اور ’جیوتھرمی‘ جیسے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس شعبے میں روزگار کے مواقع میں 2014 اور 2015 کے درمیان عالمی سطح پر پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔

Workers at a 1 MW solar power station run by Tata power on the roof of an electricity company in Delhi, India.

اس کے علاوہ مزید قریب 1.3 ملین انسان مختلف ملکوں میں ہائیڈل پاور ورکس یا پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرتے ہیں، جن میں ڈیموں کی تعمیر، انہیں فعال رکھنا اور بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کے وسیع ذخائر کی دیکھ بھال کے شعبے شامل ہیں۔

قابل تجدید توانائی کی عالمی تنظیم ’اِیرینا‘ کے ڈائریکٹر جنرل عدنان امین  کے مطابق قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع ایک ایسا شعبہ ہیں، جس میں روزگار کے مسلسل نئے مواقع نے اسے عالمی افرادی قوت کے لیے ’روزگار کی مشین‘ بنا دیا ہے۔

عدنان امین نے کہا کہ گرین انرجی کے حصول کے لیے یہ رجحان آئندہ بھی نہ صرف جاری رہے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ ملکوں میں ماحول دوست توانائی کے سلسلے میں ایسی پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے، جو پیرس میں طے پانے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں طے کردہ اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو گی۔

IRENA کی رپورٹ کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر چین پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اس شعبے کے کارکنوں کی مجموعی تعداد قریب 1.7 ملین بنتی ہے۔

چین کے بعد جاپان دوسرے، امریکا تیسرے بنگلہ دیش چوتھے نمبر پر ہے۔ بہت حوصلہ افزا بات یہ بھی ہے کہ صرف بنگلہ دیش کے دیہی علاقوں میں گزشتہ برس ایسے قریب سات لاکھ ’سولر ہوم سسٹم‘ فروخت ہوئے، لاکھوں بنگلہ دیشیوں کو ایسے ذرائع کی مدد سے لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ بجلی استعمال کرنے کا موقع ملا۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کو توقع ہے 2030 تک اس اقتصادی شعبے کے کارکنوں کی مجموعی تعداد 24 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔

x

Check Also

گوگل نے ڈیٹا کے بچت کی ایپ ڈیٹا لی متعارف کرادی

گوگل نے ڈیٹا کے بچت کی ایپ ڈیٹا لی متعارف کرادی

گوگل نے اسمارٹ اور سادہ اینڈرائیڈ ایپ ڈیٹا لی Datally متعارف کرائی ہے جو اسمارٹ ...