چین اور بھارت میں ذہنی صحت کا مسلہ عام ہو رہا ہے

چین اور بھارت میں ایک تہائی سے زائد افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن ان میں سے بہت کم افراد کو طبی امداد کا حصول ممکن ہو پاتا ہے۔ بھارت میں سن دو ہزار پچیس تک ذہنی مریضوں کی تعداد میں ایک چوتھائی اضافہ متوقع ہے۔

دنیا کی دو سب سے زیادہ گنجان آباد ممالک یعنی بھارت اور چین ذہنی، اعصابی اور منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل سےنبرد آزما ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ تعداد دنیا کے تمام زیادہ فی کس آمدنی والے ممالک میں موجود ایسے مریض افراد کی تعدادسے زیادہ ہے۔خدشہ ہے کہ آنے والے عشروں میں یہ بوجھ مزید بڑھ جائےگا،خصوصا بھارت میں جہاں 2025 تک ذہنی مریض افرادکی تعداد میں ایک چوتھائی اضافہ متوقع ہے۔patient 2

 چین اینے ملک کے ضعیف افراد میں تیزی سے پھیلتی بیماری نِسیان کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی کوششوں میں ہے۔ نسیان یا ڈیمنشیا کی بیماری چین میں 35 سال سے زائد عرصے قبل خاندانی منصوبہ بندی یا برتھ کنٹرول کے لئے لگائی گئی سخت پالیسییوں کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

طبی ریسرچ کے جریدے ‘دی لینسیٹ’ میں شائع ہونے والے جائزوں کے مطابق دونوں ممالک میں ذہنی امراض سے نمٹنے کے لئے سہولیات نا کافی ہیں۔ یہ جائزہ ’’چین بھارت مینٹل ہیلتھ صحت الائنس‘‘ کے آغاز کے موقع پر شائع کیے گیا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق چین میں ایسےpatient لوگوں کی تعداد صرف چھ فی صد ہے، جن کے لئے عام ذہنی بیماریوں مثلا ڈپریشن اور اعصابی بے چینی کا علاج ممکن ہے۔ نشہ آور اشیا کے استعمال اور نِسیان کی بیماری میں مبتلا افراد بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔

چین میں ذہنی صحت کے نگہداشت کی افرادی قوت میں زیادہ کمی دیہی علاقوں میں شدید نوعیت کی ہے

بھارت میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی مریضوں کے لیے علاج معالجے کی شرح 70 فیصد یا اس سے زائد ہے۔

ذہنی صحت کے لئے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی سطح پر ابھرتی اقتصادیات کے حامل ان دونوں ملکوں یعنی چین اور بھارت کی جانب سے مختص فنڈز میں بھی نمایاں فرق ہے۔ دونوں ہی ممالک میں صحت عامہ کے لیے مختص بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم ذہنی صحت کی مد میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ میں یہ شرح قریب چھ فی صد ہے جبکہ جرمنی اور فرانس میں دس فی صد یا اس سے زیادہ ہے۔

x

Check Also

ہارٹ اٹیک سے قبل خبردار کرنیوالی ایپلی کیشن تیار

ہارٹ اٹیک سے قبل خبردار کرنیوالی ایپلی کیشن تیار

ٹیکنالوجی ماہرین نے صحت کے میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ایپل نے ...