جمہور ہی سپریم

کنور محمد حسن

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے  دور میں سینئر وکیل نعیم بخاری نے افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کیا اور اس پر پوری عدلیہ کو گھر بھیج دیا گیا۔

اس کے بعد وکلا تحریک چلی اور حالات بگڑتے دیکھے تو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذکر ڈالی۔

مشرف صاحب وہ واحد جنرل ہیں جن کو دو بار مارشل لا لگانے کا اعزاز حاصل ہے۔

پی سی او کے تحت نئی عدلیہ نے چارج سنبھالا  اور ملک میں عدلیہ  بحالی کی تحریک کے نام پر سیاست شروع ہوگئی۔

عدلیہ کی آزادی کی جنگ میں مسلم لیگ (ن) نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ نوازشریف آگے بڑھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے جج کو ان ہی کی پارٹی سے بحال کروا کر چھوڑا۔

یہاں سے عدلیہ کی آزادی کا امتحان شروع ہوا، سمجھا گیا کہ انصاف کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھل گئی ہے۔

کون کتنا آزاد ہے! آزادی کی اس تمہید کو لفظوں میں نہیں باندھا جا سکتا۔

یہ فیصلہ تاریخ سناتی ہے اور سنائے گی۔ ایک ریفرنس جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تیار کیا۔

سوال یہ ہے کہ دونوں ریفرنسوں میں کون حق پر ہے؟ کونسا جائز ہے؟ کون سا ناجائز؟ سوال تو یہ بھی ہے کیا سیاسی جماعتیں اجتماعی طور پر اپنے اندر سیاسی شعورپیدا کر سکی ہیں؟۔

70 سال سے اگر کوئی  وزیراعظم عوامی مینڈیٹ کے مطابق اپنا وقت پورا نہیں کر سکا، تو یہ بھی سچ ہے کہ کسی بھی وزیراعظم نے اجتماعی سیاسی شعور کے لئے کوئی کردارادا نہیں کیا۔

سوال تو یہ بھی بنتا  ہے کہ  سال سے ڈیڑھ سال کی مدت میں مملکت پاکستان کا وزیراعظم اپنی کرسی بچانے کےعلاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے؟۔

ایسے میں عدلیہ سے لے کر مقننہ تک کوئی بھی ادارہ اپنی طاقت کو استعمال کرنے میں آزاد نہیں۔

اس صورتحال میں اس ملک کو نہ صرف نئے سماجی اور عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کے کردار پر بحث کی بھی ضرورت ہے۔

ووٹ کو تقدس ملنا چاہیے کیونکہ عوام سپریم ہے اور عوام کا ووٹ ہی سپریم رہے گا۔ باقی سب اسی جمہور کے تابع ہیں اور رہیں گے۔

Leave a Reply

x

Check Also

حدیبیہ پیپرملز کیس: جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سماعت سے معذرت

سپریم کورٹ کےسینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نیب کی حدیبیہ پیپرز ملز کیس ...