این اے 120، نوازشہباز کا حلقہ

محمد طاہر نقاش

 

لاہور سے قومی اسمبلی کا تیسرا حلقہ این اے 120 سیاسی گرماگرمی اور گہماگہمی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

گوالمنڈی کہلانے والا یہ حلقہ حقیقت میں سیکڑوں چھوٹے بڑے محلوں اور چند ہاؤسنگ اسکیموں پر مشتمل ہے۔

دریائے راوی کو عبور کرکے لاہور شہر میں داخل ہوں تو شہر کے اندر آتی سڑک این اے 120 اور این اے 118 کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔

اس سڑک کے دائیں ہاتھ کرشن نگر اور ساندہ ہیں۔ سعدی پارک، تاریخی میانی صاحب قبرستان، اور اس کی ملحقہ آبادیاں این اے 120 کا حصہ ہیں۔

مزنگ، ڈیوس روڈ، لکشمی چوک اور داتا دربار کا احاطہ کرتے ہوئے یہ حلقہ خالصتاً شہری آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔

گورنر ہاؤس، پنجاب اسمبلی، سول سیکریٹریٹ جیسے اہم حکومتی مراکز بھی اسی حلقے میں موجود ہیں۔

حلقے میں ارائیں، انصاری اور کشمیری برادری نمایاں طور پر موجود ہیں لیکن یہاں کی بڑی اور غالب اکثریت دوسرے شہروں سے آکر آباد ہونے والوں کی ہے جو مختلف برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ بنیادی طور پر مزدور اور ملازمت پیشہ افراد ہیں اور اپنے فیصلے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر حلقے کے ووٹر کا رجحان دائیں بازو کی طرف ہے تاہم برادری ازم کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3,21,786 ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں یہ تعداد 2,95,826 تھی۔ اس طرح چار سال کے دوران حلقے میں 25,960 ووٹرز کا اضافہ ہوا۔

2008ء اور 2013ء کا جائزہ لیا جائے تو پانچ سال کے دوران حلقے کے ووٹرز میں 27,274 ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ حلقے میں ووٹرز کے اضافے کی شرح برقرار رہی ہے۔

این اے 120 کی انتخابی سیاست پر تین دہائیوں سے مسلم لیگ (ن) کی مکمل گرفت ہے۔

نوازشریف سے پہلے اس حلقے کو پیپلزپارٹی کا قلع قرار دیا جاتا ہے تاہم پیپلزپارٹی عام انتخابات میں صرف دو مرتبہ 1970ء اور 1977ء میں اس حلقے میں کامیابی حاصل کی۔

1970ء کے الیکشن میں یہ نشست مغربی پاکستان کے حلقے این ڈبلیو 60 لاہور 3 کے زیادہ تر علاقوں پر مشتمل تھی۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اس حلقے سے خود الیکشن لڑے اور 78,132 ووٹ لے کر فتح سمیٹی۔ ان کے مخالف علامہ اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال تھے جو 33,921 ووٹ حاصل کرپائے۔

ذوالفقار بھٹو کے اس نشست کو چھوڑنے کے بعد پیپلزپارٹی کے محمود علی قصوری یہاں سے جیتے۔ ذوالفقار بھٹو کی جیت کا مارجن 44,211 ووٹ تھا لیکن محمود علی قصوری مجموعی طور پر 49,363 ووٹ حاصل کرپائے۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی اے 73 پر پیپلزپارٹی کے غلام نبی کامیاب ہوئے جو تحریک انصاف کی موجودہ امیدوار یاسمین راشد کے سسر تھے۔

1977ء میں موجودہ این اے 120 کے زیادہ تر علاقے این اے 86 لاہور 6 میں شامل تھے۔ یہاں سے پیپلزپارٹی کے ملک محمد اختر 49,560 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے پی این اے کے عبیداللہ انور نے 40,827 ووٹ حاصل کئے تھے۔

1985ء کے غیرجماعتی الیکشن میں نوازشریف نے اس حلقے سے الیکشن لڑا اور اس کو اپنا بنا لیا۔ ان کے 35,719 ووٹ کے مقابلے میں قریب ترین امیدوار احمد حسن سید اسد گیلانی رہے جنہوں نے 17,896 ووٹ لئے۔ اس کے علاوہ کوئی امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہیں کرسکا۔

1988ء کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے اور نوازشریف آئی جے آئی کے ٹکٹ پر ایک مرتبہ پھر اس حلقے سے کامیاب ٹھہرے۔ اس مرتبہ یہ حلقہ این اے 95 لاہور 4 میں بدل چکا تھا۔ پیپلزپارٹی کے عارف اقبال حسین بھٹی نے خوب مقابلہ کیا اور نوازشریف کی فتح کا مارجن صرف 13,253 ووٹ رہا۔ نوازشریف نے پنجاب اسمبلی کی نشست برقرار رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست خالی کر دی جس پر آئی جی آئی کے میاں محمد اظہر کامیاب ہوئے۔

دوسری طرف این اے 96 لاہور 5 جس کا بڑا حصہ موجودہ این اے 120 میں شامل ہے پیپلزپارٹی لے اڑی۔ جہانگیر بدر نے جماعت اسلامی کے حافظ سلمان کو 4,674 ووٹوں سے شکست دی جو کہ آئی جے آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے۔

اس کے بعد 1997ء تک نوازشریف اور شہباز شریف این اے 95 اور 96 سے فتح سمیٹتے رہے، اسی دوران نوازشریف نے آئی جے آئی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) بھی بنالی۔

1990ء کے الیکشن میں نوازشریف نے دوبارہ کامیابی سمیٹی لیکن اس مرتبہ انہیں پی ڈی اے کے ایئرمارشل (ر) اصغر خان سے سخت مقابلے کا سامنا رہا۔ نوازشریف کی جیت کا مارجن 20,359 ہوگیا۔

1993ء کے الیکشن ہوئے تو نوازشریف این اے 95 سے 57,959 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ان کے مخالف پیپلزپارٹی کے ضیا بخت بٹ 33,142 ووٹ حاصل کرسکے۔ نوازشریف نے ایبٹ آباد کی نشست رکھی اور این اے 95 چھوڑ دی جس پر ضمنی الیکشن میں اسحاق ڈار جیتے لیکن ان کی فتح کا مارجن 24,817 سے کم ہو کر 15,658 رہ گیا۔

1997ء میں نوازشریف نے یہاں سے 50,592 ووٹ لئے جبکہ پیپلزپارٹی کے حاجی غلام محی الدین صرف 9,623 ووٹ ہی لے سکے۔

2002ء میں پرویز مشرف کی حکومت میں این اے 95 کے بڑے حصے کو اور این اے 96 کے کچھ علاقوں کے ساتھ ملا کر این اے 120 تشکیل دیا گیا۔

شریف برادران کے زیرعتاب ہونے کے باوجود اس حلقے کے ووٹرز نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو منتخب کیا۔ محمد پرویز ملک کو فتح تو ملی لیکن ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ہونے کے باعث وہ صرف 33,741 ووٹ ہی لے پائے۔

2008ء میں پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر نے اس حلقے سے قسمت آزمائی کی لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ معاہدے کے وجہ سے نوازشریف تو الیکشن نہ لڑپائے لیکن نوازلیگ کی ٹکٹ پر بلال یاسین 65,946 ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے۔

2013ء میں نوازشریف کی واپسی ہوئی تو ٹرن آؤٹ پھر بڑھ گیا، انہوں نے 91,683 ووٹ حاصل کئے۔ لیکن تحریک انصاف کی یاسمین راشد نے 52,354 ووٹ حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔

اس حلقے کی تاریخ دیکھی جائے تو جب جب نوازشریف نے الیکشن نہیں لڑا ٹرن آؤٹ کم رہا، اگر اس مرتبہ بھی ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے اور یاسمین راشد تحریک انصاف کے ووٹرز کو نکالنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو وہ اپ سیٹ کرسکتی ہیں۔

تعارف: محمد طاہر نقاش طویل عرصے سے صحافت کی دنیا سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور نیوزچینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور ان دنوں نیو نیوز میں ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

One comment

  1. بہت خوب نقاش۔ بھرپور تحقیق نے مضمون کو معلومات سے زرخیز کردیا ہے۔ شاندار۔

Leave a Reply

x

Check Also

بچے سیاست نہیں کرتے

تحریر: نذیر ناجی عزیزہ مریم نواز‘ اپنی والدہ محترمہ اور پارٹی کے حق میں قومی ...