فیس بکی دانشوری

 

تحریر: یاسر پیر زادہ

اللہ بھلا کرے ٹیکنالوجی کا جس نے ہر بی اے پاس کو دانشور اور ہر آئی ٹی بلونگڑے کو سائنس دان بنا دیا ہے۔ دانش تو ہمارے پاس پہلے بھی تھوک (اس ’’تھوک‘‘ کو دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں) کے حساب سے تھی فرق صرف اتنا ہوا ہے کہ اب یہ دانش سوشل میڈیا کی مرہون منت عریاں ہو کر ناچ رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اس عریاں لفظ کو غلط سمجھ کر الٹا (یا سیدھا) مطلب نکال لے، میں وضاحت کر دوں کہ میری مراد اُس بیانیے سے ہے جو زیادہ تر ہماری شہری آبادی کے ایک مخصوص گروہ کے مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ بات کو مزید صاف کرتے ہیں۔ ایک دوست نے سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کی تصویر بھیجی ہے جس میں موصوف کسی چٹائی پر لیٹے ہیں، اُن کی سادہ طبیعت کی مثال دیتے ہوئے نیچے فقرہ جڑا ہے کہ کاش پاکستان کے حکمران بھی ایسے ہو جائیں۔ کیا معصومانہ خواہش ہے! اڑچن صرف اتنی ہے کہ اگر ایسا کوئی حکمران ہمیں نصیب ہو جائے جو پھٹا ہوا کوٹ پہنتا ہو اور بغیر کسی پروٹوکول کے گھومتا ہو مگر اس کے بدلے وہ پاکستان پر بھی ایسی ہی عالمی پابندیاں لگوا دے جیسی مذکورہ سادہ دل صدر نے اپنی پالیسیوں کی بدولت ایران پر لگوائیں تو کیا ہمیں یہ سودا منظور ہوگا! پھر بھی اگر آپ کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے تو براہ کرم قائد اعظم کو اپنے پسندیدہ حکمرانوں کی فہرست سے خارج کر دیں اور گاندھی جی کو اپنا آئیڈیل مان لیں کیونکہ اول الذکر بیش قیمت سوٹ زیب تن کرتے تھے اور آخر الذکر تقریباً ننگے گھومتے تھے، شکریہ۔ سو، ہماری کھوکھلی دانش کی پہلی نشانی یہ ہوئی کہ ہم سادہ حکمرانوں کی پروجیکشن کرتے ہیں جو پھٹے پرانے کپڑے پہنتے ہوں اور بغیر پروٹوکول کے سفر کرتے ہوں، بیشک بیچ چوراہے میں مارے جائیں، کیونکہ عام لوگ بھی ایسے ہی مارے جاتے ہیں۔
فیس بکی دانش کی دوسری نشانی جمہوریت پر لعن طعن یا پھر پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام کے نفاذ کی خواہش ہے۔ اِس خواہش کا مطلب یہ نہیں کہ خدانخواستہ ہمیں جمہوریت کی تاریخ ازبر اور صدارتی نظام کی نزاکتوں کا علم ہے، یہ کہاں لکھا ہے کہ جس نظام کو مکروہ کہا جائے اس کی تاریخ بھی پڑھی جائے اور جس نئے نظام کا مطالبہ کیا جائے اُس کی خوبیوں کا خامیوں کا علم ہو! علم حاصل کریں ہمارے دشمن، ہمیں تو صرف یہ پٹی پڑھائی گئی ہے کہ جمہوریت اس ملک کے لیے ایک ایسی بد روح ہے جو جاہل عوام کے ووٹوں کے بل بوتے پر حکمرانوں کے جسم میں حلول کرکے انہیں آدم خور بنا دیتی ہے اور اگر اِس بدروح سے چھٹکارا پانا ہے تو جمہوریت کے جسم کو ہی کاٹ ڈالنا ہوگا، نہ رہے گا جسم نہ رہے گی روح۔ یہ خواہش پوری کرنا چونکہ مشکل ہے اس لئے آج کل بازار میں اِس کا ایک better versionجاری کیا گیا ہے جس کے تحت صدارتی نظام کی خوبیاں گنوائیں جا رہی ہیں، اس مقصد کے لئے بظاہر یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے پروفیسر اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر صاحبان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو نہایت پُرکشش انداز میں صدارتی نظام کی ایسی تصویر کشی کر رہے ہیں گویا یہ نظام پاکستان کے تمام دلدر دور کر دے گا کیونکہ اس میں حقیقی مقبول رہنما منتخب ہو کر آئے گا اور وہ کسی مرد آہن کی طرح پاکستان کے کینوس پر چھا کر اُن تمام مسائل کا خاتمہ کر دے گا جنہوں نے ہماری زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ یہ پڑھے لکھے دانشور بالکل کسی چورن بیچنے والے مجمع باز کی طرح آج کل صدارتی نظام کا چورن بیچ رہے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں منتخب ہونے والے نمائندے جسے وزیر اعظم منتخب کرتے ہیں وہ سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر وزرا اور دیگر لوگوں کا تقرر کرتا ہے اور یوں کوئی انگوٹھا چھاپ وزیر تعلیم اور کوئی انٹر پاس وزیر صحت لگ جاتا ہے جبکہ صدارتی نظام میں منتخب ہونے والا طاقتور صدر فقط قابلیت کی بنیاد پر ٹیکنوکریٹ افراد کو اداروں کی سربراہی تفویض کرکے خود چین کی بانسری بجایا کرے گا۔ کیا کہنے، واقعی جہالت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ فقط اتنا کہنے کی اجازت دیجئے کہ آخری مرتبہ یہ ماڈل جب آزمایا گیا تو ایک انٹر پاس شخص نے خود کو ایک غیر آئینی اقدام کے نتیجے میں صدر بنا لیا تھا جس کے پاؤں تلے اُن تمام ٹیکنو کریٹس نے اداروں کی سربراہی قبول کرکے اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ناقابل تردید ثبوت دیا تھا جو آج صدارتی نظام کے داعی بنے بیٹھے ہیں، سو وہ صاحب جنہوں نے یہ آئیڈیل نظام ہمیں دیا تھا جب اس ملک میں واپس آجائیں گے تو پھر کسی روز پارلیمانی جمہوریت اور صدارتی نظام کا تقابل بھی کر لیں گے، تب تک کے لئے آپ پاکستان کے لئے امریکہ اور مغربی ممالک کی مثالیں تلاش کریں کہ یہ فیس بکی دانشوری کی تیسری نشانی ہے۔
یہ بہت دلچسپ بات ہے، ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر امریکہ اور مغربی یورپ کے عمدہ نظام حکومت کی مثالیں شیئر کرتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستانی جمہوریت پر تبرا بھی فرماتے ہیں کہ پاکستان میں کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے کوئی نظام نہیں بن سکا۔ کتنی خوبصورت بات ہے۔ الجھن البتہ اتنی ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں رہنے والے اپنے لئے تو آئیڈیل جمہوری نظام چاہتے ہیں مگر جب بات پاکستان کی آتی ہے تو یہاں کی جمہوریت انہیں بدبودار لگتی ہے، گویا جس نظام نے انہیں ایک پر آسائش زندگی دی وہ کینیڈا میں ٹھیک مگر پاکستان میں آزمایا جائے تو غلط۔ برطانیہ اور کینیڈا کے وزرائے اعظم کی تصاویر شیئر کرنے والے یہ نہیں بتاتے کہ آخری مرتبہ اِن ممالک میں کسی آمر نے کب شب خون مارا تھا اور اگر اِس کی نوبت نہیں آئی تھی تو کیا یہ ممالک ماں کے پیٹ سے ہی دھلا دھلایا نظام لے کر پیدا ہوئے تھے یا اُن کا حال بھی کسی زمانے میں ویسا ہی تھا جیسا آج کل ہمارا ہے!! پڑھی لکھی جہالت کا بھی کوئی توڑ نہیں۔
’’ٹیلنٹ بہت ہے‘‘ کا چورن بھی اپنے ہاں بہت بِکتا ہے۔ اس ٹیلنٹ نے البتہ سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے….. ریکوڈک کے سونے کے ذخائر بھی ہمارے پاس تھے مگر کوئی سازش انہیں کھا گئی….. یہ البتہ کوئی نہیں بتاتا کہ غیر ملکی فرم سے معاہدہ خود ہم نے توڑا جس کی پاداش میں بلوچستان حکومت کو ساڑھے تین سو ملین ڈالر کا جرمانہ ڈالا گیا….. تھر کے کوئلے سے اتنی بجلی بن سکتی تھی کہ دو سو سال تک کافی ہوتی مگر نالائق حکومتیں کچھ نہ کر پائیں ….. حالانکہ سائنس کے جن ڈاکٹر صاحب کے ذمہ اِس کوئلے سے سستی بجلی پیدا کرنے کا کام تھا اُن کا پروجیکٹ ناکام رہا اور اب ’’نالائق حکومت‘‘ نے اسی کوئلے سے سستی بجلی بنانے کے دوسرے آزمودہ طریقے کو سی پیک کا حصہ بنایا ہے۔ ہمارے تمام مسائل کا حل تعلیم ہے۔ ایسی تعلیم نہیں جس میں ڈاکٹر ہڑتال کریں اور پروفیسر آمریت کی حمایت کریں۔ فیس بکی دانشوری کے بل بوتے پر اس فہرست کو مزید طویل کیا جا سکتا ہے مگر فی الحال آخری دانشوری کی اجازت دیجئے۔ ہمیں ایک ایسا لیڈر چاہئے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ یہ بات تو میری بھی پسندیدہ ہے لیکن ذرا یاد کیجئے کہ وہ لیڈر کون تھا جو نائن الیون کے بعد کولن پاول کی ایک امریکی کال پر لمبا لیٹ گیا تھا! تب تو جمہوریت بھی نہیں تھی، نظام بھی صدارتی تھا، جاہل اور کرپٹ سیاست دان جیلوں میں تھے، ٹیکنو کریٹ مشیر تھے، پھر بھی یہ نہ جانے کس طرح ہو گیا! ہے کوئی فیس بکی دانشور جو مجھے اس الجھن سے نکال سکے!

Leave a Reply

x

Check Also

بچے سیاست نہیں کرتے

تحریر: نذیر ناجی عزیزہ مریم نواز‘ اپنی والدہ محترمہ اور پارٹی کے حق میں قومی ...