برکس کانفرنس:بھارتی موقف کی ہمنوائی؟

برکس کانفرنس:بھارتی موقف کی ہمنوائی؟

عالمی تجارت میں تیزی سے ابھرنے والے دنیا کے پانچ ممالک چین، روس، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کی تنظیم برکس کی چینی شہر شیامین میں ہونے والی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں پہلی بار نام لے کر پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدام پر زور دیا گیا ہے اور طالبان، لشکر طیبہ، جیش محمد، داعش، حقانی نیٹ ورک، حزب التحریر اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں کی سرکوبی کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا اپنے مطلب کے معانی پہنا کر اسے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بہت بڑی فتح قرار دے رہا ہے۔

ماضی میں بھی بھارتی وزیراعظم مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دے کر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کا حوالہ دیتے رہے ہیں مگر چین کی مخالفت کی وجہ سے وہ اس ضمن میں کوئی قرار داد منظور نہیں کراپائے لیکن اس مرتبہ مشترکہ اعلامیہ میں نہ صرف متذکرہ تنظیموں کے نام لے کر ان کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا بلکہ کسی کا نام لیے بغیر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے، دہشت گرد تنظیموں کا انتظام کرنے یا انہیں مدد دینے کے ذمہ داروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

بھارتی میڈیا مشترکہ اعلامیہ کے اس حصے کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے حالانکہ پاکستان ان تنظیموں کو پہلے ہی خلاف قانون قرار دے چکا ہے اور ان کے رہنما نظر بند کئے جا چکے ہیں۔ جہاں تک طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کا تعلق ہے تو پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کے تحت ان کے خلاف زبردست کارروائی کی اور اب آپریشن ردالفساد کے تحت بچے کھچے دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی ختم کر دی گئی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں، خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کے جو اکا دکا واقعات ہو رہے ہیں وہ بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں جن کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں۔

برکس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا ذکر تک موجود نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام70سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد کو کسی صورت دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے پرامن مظاہروں اور ریلیوں پر بھارتی فوج گولیاں چلاتی ہے جس کے جواب میں وہ اپنی مدافعت کے لیے حملہ آور فوج پر پتھرائو کرتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔ یہ کوئی دہشت گردی نہیں بلکہ ان نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے والی بھارتی فوج دہشت گردہےکوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اوسطاً تین چار بے گناہ شہری شہید نہ کئے جاتے ہوں۔ پچھلے ایک سال میں سیکڑوں کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں۔ عیدالاضحی کے روز بھی دو کشمیری نوجوان شہید کر دیئے گئے اور ایک گھر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

بھارتی فوج کنٹرول لائن کی بھی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور دیہاتیوں پر اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کرتی ہے جس سے درجنوں بے گناہ دیہاتی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ برکس کانفرنس کو اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا۔ کانفرنس میں دہشت گردی کے وسیع تناظر میں یہ درست تجویز دی گئی کہ عالمی انسداد دہشتگردی اتحاد قائم کیا جائے جس کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے بھارت افغانستان میں خفیہ ایجنسی را کے ٹھکانے ختم کرے جو پاکستان میں دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے درست کہا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت پاکستان کو برکس کانفرنس میں اپنے دوستوں سے بات کرنا ہوگی کہ انہوں نے کس بنیاد پر دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے بھارت کے موقف کی ہمنوائی کی اور اس کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کا موقع دیا، پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہر سطح پر دنیا میں اٹھانی چاہئیں اور بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کے لیے عالمی سطح پر سلسلہ جنبانی کرنی چاہئے۔

Leave a Reply

x

Check Also

حدیبیہ پیپرملز کیس: جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سماعت سے معذرت

سپریم کورٹ کےسینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نیب کی حدیبیہ پیپرز ملز کیس ...