supreme-court-resumes-hearing-of-panama-leaks-case-e10ebe570c0d425d91b688ffc8ac8c63-640x360-1-2-640x360

رپورٹ پر آئندہ کیا ہوا،10 قانونی ماہرین کی رائے

وزیراعظم کے خاندانی اثاثوں کے حوالے سےملک کو جہاں عدالت عظمیٰ کی تین رکنی عمل درآمد بنچ کی جا نب سے جوائنٹ انوسٹی گیشن (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کےنتائج کا انتظارہے،ملک کے سینئر قانونی ماہرین آئندہ اختیار کئے جانے و الے طریقہ کار کے حو الے سے محتاط ہیں۔

آئندہ کیا ہوگا ؟ ٹاپ ٹین ماہرین قانون کی رائے میں بعض کاکہنا ہے کہ عملدرآمد بنچ جے آئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لے گی، فریقین کو نوٹس جاری اورکیس کا فیصلہ کرے گی۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ جج صاحبان کے اطمینان کے لئے ہے اور رپورٹس سامنے آنے پروہ اپنے طور پر فیصلہ کریں گے۔

بعض سینئر وکلاء کہتےہیں کہ عمل درآمد بنچ جے آئی ٹی رپورٹ چیف جسٹس کو بھیج دے گی جو اسے فیصلے کے لئے دوبارہ 5؍ رکنی بنچ کے حو الے کریں گے جبکہ کچھ کا کہنا ہےکہ جیسے ہی معاملہ چیف جسٹس کے حوالے ہونے یار پورٹ سامنے آنے پر وہ نئی بنچ تشکیل دے سکتے ہیں۔ معروف وکیل عابد حسن منٹو کہتے ہیں کہ اب یہ عدالت عظمیٰ پر ہے کہ وہ سماعت جاری رکھے یا کیس ٹرائل کورٹ کے حو الے کرے۔

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سلمان اکرم راجا نے رابطہ کرنے پر کہا کہ تین رکنی عملدرآمد بنچ ہی کیس کا فیصلہ کرے گی۔ وہ کوئی بھی حکم جاری کرسکتی ہے کہ کیس مزید کارروائی کے لئے چیف جسٹس کو بھیج دے یا اپنا حکم جاری کرے۔ اکرم شیخ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ چیف جسٹس کوبھیجی جاسکتی ہے کہ وہ فیصلہ کریں کس بنچ کواس کی سماعت کرنی چاہئے۔ 5؍ رکنی بنچ اس کی سماعت نہیں کرسکتی کیونکہ اس کے دو ججوںنے پہلے ہی اپنا موقف دے دیا ہے اب نئی بنچ بنانا مکمل چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا چونکہ تین رکنی بنچ چیف جسٹس نے ہی تشکیل دی ہے لہٰذارپورٹ بھی انہیں ہی بھیجی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس 20؍ اپریل کوفیصلہ دینے والی 5؍ رکنی بنچ کو جے آئی ٹی رپورٹ دینے کے پابند ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ دوجج صاحبان زیر بحث کیس میں پہلےہی فیصلہ دے چکے ہیں تین نے نہیں دیا لہٰذا جب تک فیصلہ نہیں آجاتا اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہناہےکہ چیف جسٹس اس کیس کے فیصلے کے لئےوسیع تر بنچ تشکیل دیں جو نااہل قرار دیئے جانے کی ماضی کی نظیروں کا جائزہ لے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدرر شید اے رضوی نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بنچ درحقیقت عملدرآمد بنچ ہے لہٰذا جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد تمام فریقین کونوٹس جاری ہوئے اور معاملہ فیصلے کے لئے دوبارہ 5؍رکنی بنچ کے پاس جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ جرح سےمشروط ہے۔ بابر ستار نے کہا کہ تین رکنی بنچ نے کیس کی قسمت کا تعین کرنا ہے انہوں نے کہا کہ اصل 5؍ رکنی بنچ اپنافیصلہ دےچکی ہے جس کےدو ججوں نے قرار دیا کہ نواز شریف وزارت عظمیٰ کے اہل نہیں رہے جبکہ تین ججوں نے وزیراعظم الزامات کی انکوائری کاحکم دیا۔ یہ ضروری نہیں کہ پاناماکیس بنچ کے تین ارکان عمل درآمد بنچ کے رکن بن جائیں۔ لیکن چیف جسٹس بنچ تشکیل دے کرانہیں شامل کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق صدر علی ظفر نے کہا کہ یہ طے شدہ اصول ہےجے آئی ٹی رپورٹ پر فوری فیصلہ نہیں دیا جاتا۔ ان کےمطابق جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ دینے میں 30؍دن لگ سکتے ہیں۔اکرام چوہدری ایڈووکیٹ کا کہناہے کہ کیس کی سماعت کرنے والی عملدرآمد بنچ ہے جو جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ دے گی۔ مزید ٹرائل کی ضرورت نہیں رہتی۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے مطابق تین رکنی عمل درآمد بنچ جے آئی ٹی رپورٹ کاجائزہ لے کر ضروری ہوا تووزیراعظم کو طلب کرسکتی اور نااہل قرار دینے کاحکم جاری کرسکتی ہے۔ یہ 20؍ اپریل کو جاری فیصلے میں درج ہےکہ جے آئی ٹی رپورٹ اطمینان بخش ہوئی تو تین رکنی عملدرآمد بنچ وزیراعظم کونا اہل قرار دے سکتی ہے جبکہ ملزمان کےخلاف ریفرنس بھیجنے کے لئے ایشو 5؍ رکنی بنچ کو بھیجا جاسکتاہے۔

Leave a Reply

x

Check Also

قومی ٹیم سری لنکا سے سیریز کیلئے یو اے ای روانہ

قومی ٹیم سری لنکا سے سیریز کیلئے یو اے ای روانہ

قومی ٹیم غیر ملکی پرواز سے یو اے ای کے لیے روانہ ہوگئی۔ قومی کرکٹ ...