سنگاکارا کا جوابی وار،دورہ پاکستان کی تحقیقات کا مطالبہ

سابق سری لنکن کپتان کمار سنگاکارا نے 2009 میں ٹیم پاکستان بھجوانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے سیکیورٹی خدشات کے باوجود ٹور کی حامی بھرنے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
سنگاکارا کے اس مطالبے کو ان کے اور سابق کپتان ارجنا رانا ٹنگا کے درمیان چپقلش کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے کیونکہ رانا ٹنگا کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2011 کے ورلڈ کپ فائنل میں سری لنکن ٹیم میچ فکسنگ کی وجہ سے بھارت سے شکست سے دوچار ہوئی تھی۔
اس میچ میں لنکن ٹیم کے کپتان سنگاکارا تھے۔ سنگا کارا اس ٹیم کے بھی کٌپتان تھے جس نے 2009 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور حملے کا نشانہ بنی تھی۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کے ٹور پر بھیجنے والوں میں سے کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی،ایسا محسوس ہوا کہ ہمیں مرنے کیلیے بھیج دیا گیا تھا،کسی کو کرکٹرز کی سلامتی کیلیے فکر نہیں تھی، پلیئرز کو گولیاں لگیں، میرے جسم میں بھی چھرے موجود تھے۔
سنگاکارا نے مطالبہ کیا کہ اس امر کی چھان بین کرنا چاہیے کہ دورے سے قبل تمام کھلاڑیوں کی رضامندی بھی پوچھی گئی تھی یا صرف ایک شخص کو خوش کرنے کیلیے ایساکیا گیا تھا۔
رانا ٹنگا کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کیخلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب رانا ٹنگا نے کہا کہ اس وقت ایس لینا گاما اتھارٹی تھے جبکہ میں نے چند ماہ قبل ہی ایشین کرکٹ کونسل کی صدارت چھوڑی تھی، سری لنکن ٹیم پاکستان میں ایشیا کپ میں شریک ہوئی تو کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں کے ایجنٹ چارلی آسٹن نے مجھے مطلع کیا کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شرکت کیلیے جانا چاہتے ہیں، میں اپنے ملک کو دھوکا نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس لیے درخواست مسترد کردی، اس کے بعد سابق وزیر گامینی لوکوگی نے مجھے کرکٹ بورڈ سے ہی فارغ کردیا۔

Leave a Reply

x

Check Also

مصر میں مسجد پر حملہ، سوگ میں ایفل ٹاور کی روشنیاں گل

مصر میں مسجد پر حملہ، سوگ میں ایفل ٹاور کی روشنیاں گل

مصر کی مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق افراد کے لوا حقین ...