ری پبلکنز، انسانی بقا کے لئے خطرہ

 

نوم چومسکی

جنوری 2015 میں معروف سائنس کے معروف ترین پروگرام، بلیٹن آف اٹامک ساسئنٹسٹ   میں قیامت کی گھڑی کو تین منٹ آگے کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو تیس سال سے روک ہوا تھا۔ لیکن اس گھڑی نے پھر ہمیں خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ اس گھڑی کے وقت میں تبدیلی کی وجہ جوہری ہتھیار اور ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔ بلیٹن میں عالمی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ دنیا کو ایک خطرے سے بچانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا جائے تو دنیا کا ہرشخص اپنی اہم ترین ذمہ داری نہیں نبھا پا رہا، یعنی انسانی بقا کے لئے ماحول کا تحفظ نہیں کر پا رہا۔

تب یہ یوں لگتا ہے کہ ہم جلد ہی قیامت کے نزدیک ہوں گے۔

2015 کے اختتام سے پہلے ماحولیاتی تحفظ کے لئے عالمی رہنماؤں کی پیرس میں ملاقات ہوئی۔  اب شاید ایک دن بھی ایسا نہیں گزر رہا جب ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اپنے اردگرد نہ دیکھ رہے ہوں۔  اس کو واضح کرنے کے لئے کانفرنس سے کچھ دیر قبل ہی ناسا نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا ہے کہ  گرین لینڈ میں موجود گلیشیئر انتہائی تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔ برف کے انبار    سےپانچ بلین ٹن سالانہ کی رفتار سے  پانی میں ضائع ہو رہا ہے، اور ان میں اتنا پانی موجود ہے کہ دنیا میں سمندر کی سطح میں 18انچ بڑھ سکتی ہے۔ اگر انسان نے اس کو نہ روکا تو تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔

اس بات کا انتہائی کم امکان  تھا کہ عالمی رہنما پیرس میں کوئی ایسا مثبت کام کر سکیں گے جس سے نسل انسانی کو  تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ کچھ ماہرین تو ایسی مایوس کن باتیں بھی  کر رہے ہیں، جس سے شاید کسی بہتری کی امید باقی نہیں رہی۔

پیرس معاہدے کے بعد میزبان ملک کے وزیر نے خطاب میں کہا کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر سب ممالک کو پابند بناتا ہے۔ لیکن جب اب تفصیل میں جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی بہت سے مسائل موجود ہیں۔

960x0

میڈیا میں پیرس کانفرنس کو بے تحاشا کوریج ملی  لیکن سب سے اہم بات نیویارک ٹائمز کے ایک طویل آرٹیکل کے آخری حصے میں موجود  تھی، اس میں کہا گیا کہ  عام طور ہر مذاکراتی وفود ایسا معاہدہ کرتا ہیں  جسے بعد میں مقامی توثیق کی ضرورت پڑے، اگر ایسا ہوتا تو پھر  یہ معاہدہ کیپٹل ہل پہنچتے ہی مر جاتا، کیونکہ  سینیٹ میں دو تہائی کی اکثریت کی ضرورت پڑتی اور ری پبلکنز ایسا کبھی ہونے نہ دیتے۔

’’امریکہ کی وجہ سے ‘‘ یا پھر زیادہ درست انداز میں کہیں تو ری پبلکن پارٹی  سے نسل انسانی کی بقا کو خطرہ ہے

ٹائمز کے ایک آرٹیکل میں بھی پیرس معاہدے پر  انتہائی غور طلب بات کی گئی۔  اس معاہدے پر عمل درآمد کا ایک بڑا حصہ مستقبل میں عالمی قیادت  کے نظریات اور ویژن پر انحصار کرتا ہے۔ امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے تمام امیدواروں نے ماحولیاتی سائنس کے طریقہ کار کو ہی ماننے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے صدر اوباما کے ماحولیاتی معاہدوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ سینیٹ میں ماحولیاتی معاہدے کے خلاف  مہم چلانے والے ری پبلکن پارٹی کے  سینیٹر میچ میوکونل نے  اپنی تقریر میں کہا کہ معاہدے پر خوشیاں ماننے سے پہلے اوباما کے عالمی ساتھی سن لیں، اس معاہدے پر کبھی عمل درآمد ممکن نہیں ہے کیونکہ اس سے ملکی انرجی پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، آدھی سے زیادہ امریکی ریاستوں نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے، اور کانگرس بھی اس معاہدے کر مسترد کر چکی ہے۔

امریکہ کی دونوں جماعتیں پچھلی کچھ دہائیوں میں قدامت پسندی کی جانب جھکی ہیں، اب ڈیموکریٹس بھی کافی حد تک ’’معتدل ری پبلکن ‘‘ بن چکے ہیں۔ ری پبلکن پر بہترین تبصرہ تھامس مان کا ہے، جن کے مطابق وہ اب عام سیاسی انداز چھوڑ کر ’’انتہاپسند درانداز‘‘ بن چکے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کی دولت کو تحفظ دینے کی کوشش اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ اب اپنی پالیسیوں سے لوگوں کو راغب  نہیں کر سکتے۔ اب وہ انجیلی عیسائیوں کا سہارا لیتے ہیں، ایسے قوم پرستوں کو ڈھونڈتے ہیں جنہیں لگ رہا ہو کہ امریکہ ان سے چھینا جا رہا ہو،  وہ ایسے لوگوں کو شکار کر رہے ہیں جنہیں درست طور پر معلوم نہیں کہ ان کا مجرم کون ہے، حالانکہ  غور سے دیکھا جائے تو شاید  ان سے بڑا مجرم اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

پچھلے کچھ برسوں میں ری پبلکنز اپنے اندر موجود آوازوں کو دبانے میں کامیاب رہے ہیں، مگر شاید اب ایسا کرنا مزید ممکن نہیں۔ 2015 کے بعد اس میں ناکام رہنے کی وجہ سے مایوسی بڑھی ہے، شاید آگے چل کر اس سب کو اکٹھا کرنا مشکل ہو جائے۔

ری پبلکن کے تینوں امیدواروں نے مختلف مقامات پر مذہب کا سہارا لے کر واضح کیا کہ انسان کا  عالمی درجہ حرارت بڑھانے میں کوئی کردار نہیں، اگر یہ بڑھ رہا ہے تو پھر  یہ قدرت کا کام ہے، جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

image

اوباما نے پیرس میں دنیا کے سامنے عہد کیا کہ وہ ماحول کا تحفظ کریں گے  تو ادھر ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ میں اوباما کی ماحولیاتی کمیٹی سے قانون سازی کر کے اختیارات ہی لے لیے۔ پوری دنیا میں اوباما پر تنقید  ہوئی کہ اسے تو اپنے ملک کی حمایت حاصل نہیں، یہ دنیا  کو معاہدے پر عمل درآمد کیسے کرائے گا۔ری پبلکن پارٹی کی سائنسی کمیٹی کے سربراہ لیمر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ہر اس سائنس دان کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں جو کہتا ہے کہ دنیا انسان کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ دوتہائی امریکی عوام حکومت کے اس اقدام کے حامی ہیں، اور دنیا کے ساتھ مل کر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ پانچ میں سے تین امریکیوں کا خیال ہے کہ ماحولیات معیشت سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اس سب کے  باجود کانگرس نے امریکی عوام کی رائے کو مسترد کر دیا۔  اب یہ امریکی عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غیر فعال نظام میں اصلاح کریں کیونکہ اس میں عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

اب ذرا قیامت کی گھڑ ی کے دوسرے پہلو پر بات کرلیں، یعنی   جوہری ہتھیار۔ میرے خیال میں اس مسئلے پر لوگ اتنی توجہ نہیں دے رہے جتنی ضرورت ہے

قیامت کی گھڑی آخری بار 1983 میں تین منٹ آگے کی گئی تھی، اس وقت ریگن حکومت نے روس کے حملے کی صورت میں دفاعی مشقوں کا انعقاد کیا تھا اور اپنے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت ٹیسٹ کی تھی۔ حالیہ ڈی کلاسیفائڈ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ روس کو ان مشقوں پر انتہائی تشویش تھی اور وہ بھی تیاری کر رہے تھے، جس کا مقصد اختتام تھا۔

ایسی غیر ذمہ دارانہ مشقوں سے دنیا  ہمیشہ غیرمحفوظ ہوئی ہے۔ سی آئی اے کے سابق اہلکار مالون گلوڈمینز سوویت یونین سے متعلقہ معاملات یکھتے تھے، انہوں نے لکھا کہ آرچر مشقوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے معاملات تھے جن کی وجہ سے کریملن کو تشویش تھی، ریگن انتظامیہ نے روسی سرحد کے قریب جارحانہ مشقوں کی اجازت دی، جہاں کئی بار سوویت یونین کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ پینٹاگون نے روس کے ریڈارز کی صلاحیت جاننے کے لئے قطب شمالی میں امریکی بمبار بھیجے، اسے علاقوں میں امریکی بحری جہازوں نے دورہ کیا جہاں وہ کبھی جنگ کے دوران بھی نہیں گئے، امریکی بحریہ کے خفیہ آپریشن کیے گئے تاکہ اچانک حملے کی صورت میں روزی نیوی کی بیسوں کو نست و نابود کیا جا سکے۔

The U.S. destroyer Barry pulls alongside the Russian freighter Anosov in the Atlantic Ocean, November 10, 1962, to inspect cargo as a U.S. patrol plane flies overhead. The Soviet ship presumably carries a cargo of missiles being withdrawn from Cuba. The interception took place about 780 miles northeast of Puerto Rico. (AP Photo)

آج ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان خطرناک دنوں میں جب دنیا جوہری جنگ کے دہانے پر تھی تو اسے ایک روسی آفیسر پیٹروف نے بچایا، اگر  اس نے روس کے اعلیٰ حکام کو رپورٹ بھیج دی ہوتی کہ سوویت یونین پر میزائل حملہ ہو رہا ہے تو پھر کیا ہوتا، اسے یہ رپورٹ آٹومیٹک  ڈی ٹیکشن سسٹم سے ملی تھی۔  پیٹروف کہتے ہیں  کہ کیوبا میزائل تنازع میں اگر کوئی ان کی اور سب میرین کمانڈر وسل آرکیپوف کی جگہ لے تو اسے معلوم ہو گا کہ جوہری تارپیڈوز چلانے کا حکم روکنا کیسا کام ہے۔ ایسے موقع پر جب ان کی آب دوز  پر امریکی کیرئیر حملہ آور بھی ہو۔

تباہی کے قریب پہنچنے کی ایک ایسی کی مثال 1979 میں سامنے آئی جس کے بارے میں سیکیورٹی ماہر بروس بلیئر لکھتے ہیں کہ  امریکی صدر جوہری حملے کی منظوری دینے ہی والے تھے،  نوریڈ (امریکی ادارہ جو جوہری حملے کے خطرے سے آگاہ کرتا ہے)  نے واررنگ جاری کہ کہ روس جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے والا ہے، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائز  کو دو بار فون کر کے بتایا گیا کہ امریکہ پر حملہ ہو چکا ہے، وہ بس صدر کارٹر کو فون ملا کر قائل کرنے ہی والا تھا کہ ہمیں بھرپور جوہری جواب دینا ہوگا کہ تیسری بات فون آیا اور  کہا گیا کہ یہ ایک غلطی تھی۔

ایسا ہی ایک وقعہ 1995 میں پیش آیا  جب سائنسی آلات سے لیس امریکی جوہری میزائل   اپنے راستے سے ہٹ گیا اور اس بار صدر بروس یالسن کو فیصلہ کرنا تھا کہ انہیں جوہری جنگ شروع کرنی ہے یا نہیں۔

برطانوی صدر بلیر نے بتایا کہ  مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایک جوہری  ہوائی جہاز کو مشق کے بجائے غلطی سے جوہری حملہ کرنے کے احکامات جاری ہو گئے۔ اسی طرح  ٹرانسمیشن کے دوران جوہری مشق کا ترجمہ جرہری حملہ ہو چکا ہے۔  دونوں واقعات میں کوڈ فیل ہوئے اور انسانی مداخلت سے جوہری حملہ روک گیا۔  بلیئر کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں ایسا ہو چکا ہے۔

بلیئر نے یہ بات جان بورڈب رپورٹ میں کہی جس میں بتایا گیا تھا کہ کیوبا میزائل تنازع کے دوران  امریکی بیس کو  غلطی سے جوہری جنگ شروع کرنے کا آرڈر ملا لیکن وہاں موجود لوگوں نے انکار کردیا، یوں احکامات کو نہ مان کر دنیا کو بچا لیا گیا۔

اکثر اوقات خطرہ نہیں بلکہ سنسنی ہوتی ہے۔ ذرا اس تاریخ کو مد نظر رکھیں اور کلنٹن دور  کی سٹارٹ کوم اسٹڈی کو پڑھیں، جس کے تحت  کسی بھی ملک کے خلاف جوہری حملہ کیا جا سکتا ہے، چاہے اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں، اس کا مطلب ہے کہ جوہری ہتھیار مسلسل استعما ل میں ہیں، یعنی فعال ہیں۔

دنیا کے معتبر ترین ادارے انٹرنیشنل سیکیورٹی جرنل کے مطابق امریکی نے ہمیشہ سے ابتدائی حملے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، جو دفاعی پالیسی کی توہین ہے۔ یہی پالیسی اوباما کی نئی جنگی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت میزائل اور سب میرینز کو مزید مہلک ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے۔  جرنل کے مطابق امریکی پالیسی شاید چین کو بھی پالیسی بدلنے پر مجبور کر دے اور وہ پہلے حملہ نہ کرنے کی پولیسی کو ترک کر کے میدان میں آ جائے، دنیا پھر ایک نئے خطرے سے دوچار ہو گی۔

نیٹو کی جارحیت بھی اب سب کے سامنے ہے جو روس کی سرحد تک پہنچ گئی ہے، اسی جارحیت سے یوکرائن کا مسئلہ کھڑا ہوا کیونکہ اب نیٹو روس کے دل پر حملہ کر رہا ہے۔ اگر وارسا معاہدہ زندہ ہوتا تو پھر امریکہ کیا کرتا، گر بیشتر لاطینی امریکہ کے ملک اس میں شامل ہوتے، اور اب کینیڈا اور میکسیکو بھی اس میں شامل ہو رہے ہوتے۔

روس اور چین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے قریب موجود امریکی  میزائل ڈیفنس سسٹم درحقیقت پہلے حملہ کرنے کی قابلیت ہے۔ شاید ان کے لئے اس کی ایسی اہمیت نہ بھی ہو لیکن ہدف کچھ بھی سوچ سکتا ہے۔ایک برطانوی ماہر نے خوبصورت لائن لکھی تھی کہ نیٹو اس خطرے کو بچانا چاہتا ہے جو اس کی پیدائش سے ہی پیدا ہوا ہے۔

ترکی میں روسی طیارہ گرانے سے کسی کو کیا فائدہ ہوا۔ وہ طیارہ صرف 17 سیکنڈ کے لئے ترکی کی فضا میں داخل ہوا اور وہ شام کی طرف ہی جا رہا تھا، لیکن پھر ہوا کیا، روس نے غلطی مان لی؟ اس کے بعد روس نے اپنے مہلک ترین جہازوں اور اینٹی ائیرکرافٹ میزائل سسٹم کو شام کی سرحد پر تعینات کر دیا۔ اس سب سے ایسا ماحول بن گیا جو کسی بھی وقت مہلک ترین جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

نیٹو اور  روس اب تیزی سے آمنے سامنے آ رہے ہیں، مسلسل ایک دوسرے کو اکسایا جا رہا ہے۔ ایسی حرکتیں کی جا رہی ہیں جس سے اشتعال بڑھے۔ امریکی فوجی اسٹیونیا کی سڑکوں پر پریڈ کر رہے ہیں، اب دنیا سمجھ رہی ہے کہ جنگ ناقابل فہم نہیں۔

اگر ہم یوں ہی چلتے رہے تو شاید بچ جانے کے زیادہ امکانات نہیں ہوں گے۔

x

Check Also

rauf kalasra

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی کو قانون کا ڈر نہیں رہا۔ معاشرہ ...