بنگلا دیش میں 85 شدت پسند گرفتار

بنگلا دیش میں اقلیتوں اور سماجی کارکنوں پر بہیمانہ حملوں کے بعد شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اتوار کے روز پولیس نے پچاسی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

جمعے سے شروع کئے گئے کریک ڈاون میں اب تک پانچ ہزار سے زائد مشتبہ ملزموں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

نیشنل پولیس چیف اے کے ایم شاہد الحق کے مطابق تمام گرفتاریاں مخصوص الزامات کے تحت کی گئی ہیں جن میں اسلحہ، منشیات رکھنا اور دیگر جرائم شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک ہندو پنڈت، مندر کے ملازم اور عیسائی دکان دار کو چھریوں کے وار کرکے قتل کیا گیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ ایک مسلمان خاتون کو بھی چھریاں اور گولی مارکر قتل کیا گیا جو ایک پولیس افسر کی بیوی تھیں۔

بنگلا دیش میں پچھلے سال سے اب تک اقلیتوں، سماجی کارکنوں، روشن خیال دانشوروں ، بلاگرز اور کچھ مسلم اقلیتی فرقوں کے تیس افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے اکیس افراد کے قتل کی ذمہ داری داعش قبول کرچکی ہے جبکہ باقی کی ذمہ داری القاعدہ اپنے سر لیتی ہے۔

بنگلادیشی حکومت نے اپنی سرزمین پر داعش یا القاعدہ کے وجود کی سختی سے تردید کی ہے اور مقامی شدت پسندوں کو ان کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان حملوں میں جماعت المجاہدین اور انصار اللہ بنگلا ٹیم نامی دو مقامی گروہ ملوث ہیں جو بنگلادیش میں اسلامی شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔

بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ان حملوں میں ملوث قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی مخالفین کو پُرتشدد واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی سیاسی جماعت نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو سیاسی مخالفین کو دبانے کا ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔

x

Check Also

ہرسال 1600 بھارتی فوجی بغیر جنگ کیے مرجاتے ہیں

ہرسال 1600 بھارتی فوجی بغیر جنگ کیے مرجاتے ہیں

ٹریفک حادثات،خودکشیاں اور بیماریاں بھارتی فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سبب بننے ...