یورپ پر ایٹمی حملے کا خطرہ

داعش کی جانب سے یورپ پر ایٹمی حملہ ایک حقیقی خطرہ بن کر سامنے آرہا ہے۔ شدت پسند تنظیم اس وقت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے تھنک ٹینک انٹرنیشنل لکسمبرگ فورم نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی یورپ کو ایٹمی ہتھیاروں سے نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ داعش اس سے پہلے شام میں اپنی کارروائیوں کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرچکی ہے۔

تھنک ٹینک نے سابق سوویت یونین کے کئی نیوکلیئر ریسرچ سنٹرز کی ناقص سیکورٹی کی نشاندہی بھی کی جو ان کے خیال میں کسی ایٹمی حملے کا باعث بن سکتی ہے۔

انٹرنیشنل لکسمبرگ فورم کے مطابق داعش اس کوشش میں ہے کہ فرانس میں یورو کپ 2016 کے مقابلوں کے دوران دہشت گردی کی کارروائی کی جائے۔

france security

برسلز میں دو مہینے پہلے ہونے والی دہشت گردی میں ملوث گروپ بیلجیئم کے جوہری مرکز کے کارکنوں اور سیکورٹی عملے کی نگرانی بھی کرتا رہا ہے۔

انٹرنیشنل لکسمبرگ فورم کے صدر موشی کانٹور کہتے ہیں بیلجیئم میں نیوکلیئر پاور اسٹیشن تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش دہشت گردوں کے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔

”ضروری نہیں کہ دہشت گرد جوہری مواد چوری کرکے ہی روایتی ایٹم بم کا استعمال کریں۔ دہشت گردوں کی جانب سے کسی جوہری پاور پلانٹ کو دھماکا خیز مواد سے اڑانے کے نتائج بھی انتہائی خوفناک ہوں گے۔”

سابق برطانوی وزیر دفاع ڈیس براؤن نے ایٹمی دہشت گردی کو انتہائی پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے متحدہ عالمی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔

”اگر دہشت گردوں کے ہاتھ جوہری مواد لگ جاتا ہے اور وہ اسے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ سب جانتے ہیں کہ دہشت گرد جوہری مواد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بات کی بھی اطلاعات ہیں کہ جب داعش نے موصل پر قبضہ کیا تو ان کے ہاتھ یورینیم کے آئسوٹوپس بھی لگے تھے۔”

”ایٹم بم بنانا اتنا مشکل نہیں۔ ایسے کسی بم سے ضروری نہیں کہ وہ بہت زیادہ لوگوں کو ماردیں۔ لیکن ایسے کسی حملے کے ماحول، انفراسٹرکچر اور لوگوں کی نفسیات پر انتہائی تباہ کن اثرات ہوں گے۔ دہشت گرد کسی جوہری تنصب پر سائبر حملہ بھی کرسکتے ہیں۔”

اس وقت بین الاقوامی سطح پر سویلین اور ملٹری پروگراموں میں دو ہزار میٹرک ٹن کے قریب انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم استعمال کی جارہی ہے جسے چوری کرکے یا اس مواد میں کچھ ردوبدل کرکے نیوکلیئر بم بنایا جاسکتا ہے۔

x

Check Also

rauf kalasra

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی کو قانون کا ڈر نہیں رہا۔ معاشرہ ...